My mission is to wipe away tears from all faces.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۲
ساتھیوں کا یہ اندازہ درست نہ تھا۔ انگریز کے سیاسی غلبہ کا خاتمہ ملک میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہے۔ اس معاملہ میں ہمارے لیڈر معصومانہ حد تک ایک غلط اندازہ کا شکار ہوئے۔ وقت کے بہت سے دوسرے سیاسی رہنماؤں کی طرح، مہاتما گاندھی نے یہ سمجھ لیا کہ ملک میں انگریزوں کا راج تمام خرابیوں کا منبع (Source of all evils) ہے۔ جب بدیسی راج ختم ہو گا اور دیسی راج ملک میں آئے گا تو اس کے بعد اپنے آپ سارے معاملات درست ہو جائیں گے۔ مگر یہ انسانی نفسیات اور تاریخی عوامل سے معصومانہ حد تک بے خبری کا نتیجہ تھا۔ کیونکہ سماجی حالات خود سماج کی اصلاح سے درست ہوتے ہیں نہ کہ حکومتی افراد کی تبدیلی سے۔ یہی وجہ ہے کہ مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھیوں کا لایا ہوا سوراج محض ایک قسم کا (coupe) بن گیا۔ نہ کہ وہ چیز جس کو انقلاب (revolution) کہا جاتا ہے۔ کو میں صرف حکمران افراد بدلتے ہیں، جب کہ انقلاب میں پورے سماجی حالات میں ایک نیا دور آ جاتا ہے (اس معاملہ کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، انگریزی اخبار پائیر ۲۶ جنوری ۱۹۹۷ء)
۲۰ جنوری ۱۹۹۷ء کی مذکورہ میٹنگ میں میری بات سن کر ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ مہاتما گاندھی پر تنقید کر رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ یہ مسئلہ کسی شخصیت کا نہیں ہے بلکہ ملک کا ہے:
I love Gandhi, but I love India more than Gandhi. میں نے کہا کہ یہ تنقید نہیں ہے بلکہ وہ از سر نو جائزہ (re-assessment) ہے اس قسم کا جائزہ اس لئے ضروری ہے کہ ہم بار بار اسی سابقہ غلطی کو دوہرا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ۱۹۷۷ء میں جے پرکاش نرائن نے پورن سوراج (Total revolution) کا آندولن چلایا اس کا فلسفہ بھی عین وہی تھا۔ ہمارے پچھلے لیڈروں نے برٹش راج کو تمام خرابیوں کا سر چشمہ سمجھا تھا۔ اسی نظریہ کے تحت جے پرکاش نرائن نے کانگریس راج کو ملک کی تمام خرابیوں کا سر چشمہ سمجھ لیا اور اس کے خلاف دھواں دھار تحریک شروع کر دی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues