Al-Risala · November 1999 · page 23

My mission is to wipe away tears from all faces.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۳

کانگریس راج ختم کرنے کی حد تک یہ تحریک صد فی صد کامیاب رہی۔ مگر مطلوب ریوولیوشن لانے میں وہ صد فی صد ناکام رہی۔ ٹوٹل ریوولیوشن تو در کنار جزئی ریوولیوشن بھی اس کے ذریعہ سے نہ آسکا۔ اس لئے انتہائی ضروری ہے کہ ماضی کی سیاسی تاریخ کا بے لاگ جائزہ لیا جائے تاکہ ہم ایک ہی غلطی کو بار بار دہرانے سے بچ جائیں۔

حقیقت یہ ہے کہ انقلاب کا راز غیر سیاسی اداروں کی تبدیلی میں ہے نہ کہ کسی سیاسی گدی کے گدی نشین کو بدلنے میں۔

زیکو سلواکیا (Czechoslovakia) پر جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر کے قبضہ کے بعد وہاں کے بہت سے یہودی بھاگ کر دوسرے ملکوں میں چلے گئے۔ ان میں ایک یہودی جوڑا ڈاکٹر نیڈل اور مسز نیڈل ہندوستان آئے۔ یہ لوگ ایک دستکاری کے ماہر تھے جو اس وقت کے زیکو سلواکیا میں پائی جاتی تھی، وہ مخصوص تکنیک سے شیشہ کو پگھلا کر اس سے آرائشی چیزیں بناتے تھے۔ یہ ۱۹۳۸ء کا زمانہ تھا جب کہ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں کانگریس کی حکومت پہلی بار قائم ہوئی تھی۔ یوپی گورنمنٹ کے تکنیکل ایجوکیشن کے ڈیپارٹمنٹ نے اس یہودی جوڑے کو بنارس ہندو یونیورسٹی میں ٹھہرایا۔ اور یہ انتظام کیا کہ وہ اپنایہ فن ہندوستانیوں کو سکھائیں۔ یوپی کی کانگریس حکومت کے تعاون سے جن لوگوں نے اس صنعت کو سیکھا ان میں میرے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں (وفات ۱۹۸۸) بھی تھے۔ اس فن کو سیکھنے کے بعد انھوں نے ۱۹۴۲ء میں اعظم گڑھ میں لائٹ ایڈ کمپنی کے نام سے ایک کارخانہ کھولا جو بعد کو لائٹ اینڈ کمپنی لمٹیڈ بن گیا۔

میرے بھائی ڈاکٹر نیڈل کے بہت سے قصے سناتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر نیڈل ڈسپلن کا بہت زیادہ پابند تھا۔ ایک منٹ ادھر اُدھر ہونا اس کو گوارہ نہ تھا۔ ایک بار اس نے زیر تربیت نوجوانوں کو گورنمنٹ کی کوئی ہدایت بتائی ایک مرحلہ میں اس کو محسوس ہوا کہ لوگ سختی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page