Al-Risala · November 1999 · page 24

My mission is to wipe away tears from all faces.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۴

سے اس ہدایت کی پابندی نہیں کر رہے ہیں۔ اس نے تقریبا چیخ کر کہا کہ یہ ایک سرکاری حکم ہے۔ It is a government rule. میرے بھائی جو سامان تیار کرتے تھے وہ زیادہ تر باہر کے علاقوں میں بھیجا جاتا تھا۔ مثلاً ساؤتھ انڈیا، سری لنکا وغیرہ۔ یہ پورا کام ڈاک خانہ کے ذریعہ ہوتا تھا۔ اس زمانہ میں ڈاک خانہ نہایت صحت کے ساتھ کام کرتا تھا۔ ایک بار ایک پوسٹ مین نے ہماری کوئی ڈاک گڑ بڑ کر دی۔ بھائی صاحب نے اس کی شکایت لکھ کر ڈاک خانہ بھیج دی۔ اس کے بعد ڈاک خانہ کا پورا محکمہ، حتیٰ کہ پوسٹ آفس سپرنٹنڈنٹ اس طرح سرگرم ہوگئے جیسے کہ کوئی ہنگامی صورت حال پیدا ہو گئی ہو۔ یہ معاملہ صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ پوسٹ مین نے آکر میرے بھائی سے معافی مانگی اور انھوں نے اس کو تحریری معافی نامہ دے دیا۔

یہ ۱۹۴۷ سے پہلے کا وہ ہندوستان تھا جس کو بہت سے دوسرے دیکھنے والوں کے ساتھ میں نے بھی دیکھا اور جانا۔ آج یہ ہندوستان کہیں موجود نہیں۔ آج یہ حالت ہے کہ سرکاری ہدایات آتی ہیں اور دفتروں میں فائل کر کے رکھ دی جاتی ہیں۔ نہ کوئی ان کو سنجیدگی کے ساتھ پڑھتا اور نہ وہ ان پر عمل کرتا تھا۔

۱۹۷۷ کے بعد جب ہمارے سماج میں بگاڑ آیا اور ہر شعبہ میں گراوٹ کے آثار ظاہر ۔ ہوئے تو ہمارے نئے حکمرانوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ وہ ہر مسئلہ پر ایک قانون بنائیں انگریزوں نے اپنے دو سو سالہ حکومت کے دوران صرف پانچ سو قانون بنائے تھے۔ مگر آزادی کے بعد ہماری حکومت نے پچاس سال کے اندر پانچ ہزار سے زیادہ قوانین بنا ڈالے۔ ان کے علاوہ قاعدوں اور ضابطوں کی صورت میں روزانہ جو احکام جاری ہوتے رہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے۔ مگر آج یہ حالت ہے کہ سرکاری دفتروں میں کوئی شخص قانون اور ضابطہ کے حوالہ سے اپنا کوئی حق نہیں پاسکتا۔ اب سرکاری دفتروں سے لے کر عدالتوں تک ہر جگہ رشوت اتنا زیادہ عام ہو چکی ہے کہ مزید پیسہ خرچ کئے بغیر کسی کا کوئی کام ہونا ممکن ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page