My mission is to wipe away tears from all faces.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۵
قانون کی کثرت نے موجودہ ہندوستان کو قانون کا جنگل بنادیا ہے قوانین کی یہ کثرت ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے نہ کہ معاون، نئی دہلی کے ایک سینئر وزیر نے جون ۱۹۹۸ میں اپنی ایک گفتگو کے دوران کہا کہ میں حکومت میں بڑے بڑے ارادے لے کر آیا تھا مگر یہاں حالت یہ ہے کہ میرا بیشتر وقت قانون اور ضابطہ کی خانہ پوری میں الجھار ہتا ہے۔ دفتر میں ہر روز میرا تقریبا دس گھنٹہ کاغذوں کے انبار پر دستخط کرنے میں گزر جاتا ہے۔
۱۹۴۷ سے پہلے انگریزی حکومت کے زمانہ میں موجودہ قسم کے کرپشن کا کوئی تصور ہی نہ تھا جو آج ہر جگہ پایا جارہا ہے۔ میں نے ایک میٹنگ میں کہا کہ اس صورت حال کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہمارے ان لیڈروں پر ہے جو تحریک آزادی کے ہیرو سمجھے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے ان ہیروروں نے اس حقیقت کو کیوں نہیں جانا کہ ملک کو انگریزیوں سے آزاد کر کے وہ اس کو سماج کے حوالہ کر رہے ہیں وہ ایک دولت پرست سماج ہے۔ انگریزی دور میں محکوم ہونے کی بنا پر اس کی دولت پرستی چھپی ہوئی ہے۔ جیسے اس کو حاکمانہ حیثیت حاصل ہو گی اس کی دولت پرستی پورے طور پر ابھر آئے گی اور ملک لوٹ و بھر سٹار چار کا جنگل بن جائے گا جیسا کہ عملاً پیش آیا۔ آزادی کے بعد ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ ہمارے ملک میں سب سے زیادہ جس چیز کی کمی ہے وہ سائنٹفک ٹمپر (سائنسی مزاج) ہے۔ یہ بلاشبہ ایک صحیح بات تھی۔ مگر یہ بات ان کو ۱۹۴۷ سے پہلے جاننا چاہئے تھا۔ ہمارے لیڈروں، ہند اور مسلم دونوں پر فرض کے درجہ میں ضروری تھا کہ وہ سب سے پہلے یہ کام کریں کہ قوم سے دولت پرستی کا مزاج ختم کریں اور اس کے اندر صحیح معنوں میں سائنسی مزاج پیدا کریں۔ اگر وہ ۱۹۴۷ سے پہلے ذہنی تعمیر کا یہ کام کرتے تو آزادی بلاشبہ ہمارے لئے ایک نعمت ہوتی۔ مگر اس ابتدائی تیاری کے بغیر جب وہ آزادی لائے تو فطری طور پر یہ ہوا کہ ملک مالی بھر شٹا چار کا جنگل بن گیا۔ موجودہ زمانہ میں ایک لفظ کا بہت زیادہ چرچا کیا جاتا ہے، اور وہ دیش بھکتی ہے، میں دیش بھکتی کو ملک کی نئی تعمیر کے لئے بے حد اہم سمجھتا ہوں مگر دیش بھکتی کے شور میں مجھے کوئی سچا
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues