My mission is to wipe away tears from all faces.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۶
دیش بھگت دکھائی نہیں دیتا۔ اپنے علم اور تجربہ کی بنیاد پر میرا شدید احساس ہے کہ ہمارے لیڈروں میں شاید کوئی ایک شخص بھی نہیں جو حقیقی معنوں میں دیش بھگت ہو۔ مجھے ہر ایک صرف خویش بھگت دکھائی دیتا ہے۔ نہ کہ دیش بھگت۔
یشپال ایک ہندی ناول نگار ہے انھوں نے اپنی زندگی تشدد پسند انقلابی کی حیثیت سے شروع کی۔ ۱۹۳۱ میں انگریزی حکومت نے انھیں گرفتار کر لیا۔ بعد کو وہ ایک زیرک دانشور کی حیثیت سے ابھرے۔ انھوں نے پریم چند کی روایات کو آگے بڑھایا ”جھوٹا سچ“ ان کا ایک بہت مشہور ناول ہے۔
اس ناول میں وہ بتاتے ہیں ۷ ۱۹۴ سے پہلے بر صغیر ہند کے نیتاؤں نے جن نعروں پر قوم کو سر حد کے دونوں طرف اٹھایا۔ وہ سب تباہ کن نعرے تھے۔ نعروں کی اس سیاست نے پورے بر صغیر کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔ نیتاؤں کے نعرے صرف جھوٹے تھے جن کو سچ کے روپ میں پیش کیا گیا۔ ”جھوٹا سچ“ اسی کی کہانی ہے، تاہم ان کے ناول کا آخری باب پر امید الفاظ پر ختم ہوتا ہے۔ ”دیش کا مستقبل چند نیتاؤں کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ جنتا کے ہاتھ میں ہے۔ مگر ناول نگار کے یہ الفاظ بھی موجودہ مدت میں ایک فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہندوستان کا نظام کیا وہ سو کروڑ باشندے چلائیں گے جن کو جنتا کہا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ عملی طور پر جو ہو گا وہ یہ کہ ملک میں الیکشن کرائیں جائیں گے۔ اس الیکشن میں جو لوگ جیتیں گے وہی حکومت بنا کر ملک کا نظام چلائیں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ دوبارہ یہ نیتا ہی ہوں گے جو ملک کے حال اور مستقبل کے مالک ہوں گے نہ کہ جنتا۔ ہمارے ملک کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کی عام جنتا ایک بے شعور بھیڑ ہے۔ تعلیمی پس ماندگی کی بنا پر وہ نعرہ اور حقیقت کے درمیان فرق نہیں جانتے۔ وہ استحصالی الفاظ اور تعمیری الفاظ کے درمیان تمیز نہیں کر سکتے۔ جنتا کی یہی بے شعوری ہے جس نے نیتاؤں کو یہ موقع دیا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues