Al-Risala · November 1999 · page 27

My mission is to wipe away tears from all faces.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۷

وہ جھوٹ کو سچ کے روپ میں پیش کریں اور جنتا اس پر یقین کرتے ہوئے اپنا ووٹ دے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے جب مہاتما گاندھی سیاسی آزادی کا اندولن چلا رہے تھے تو ان سے کہا گیا کہ آپ ملک کو آزاد کر کے اسے جن لوگوں کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں وہ ان شگھت لوگ ہیں اور آشگھت لوگ کسی ملک کا نظام درست طور پر نہیں چلا سکتے۔ مہاتما گاندھی نے اس کے جواب میں کہا کہ میرے دیش کے لوگ آشگھت ہیں، مگر وہ آگیانی نہیں۔ لیکن پچھلے پچاس سال کا تجربہ بتاتا ہے کہ جو لوگ آشگھت ہوں وہ ہمیشہ آگیانی ہی ہوتے ہیں۔ گیان کے لئے شگھادینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ جسم کی تندرستی کے لئے غذا، یہ فطرت کا ایک اصول ہے جس میں کوئی استثنا نہیں۔

جنتا کی اس کمزوری نے ہمارے لیڈروں کو یہ موقع دیا کہ وہ بڑے بڑے الفاظ بول کر ان کا سیاسی استحصال کریں۔ جو لوگ سنجیدہ طور پر قوم کی تعمیر کرنا چاہتے ہوں وہ ہمیشہ لو پروفائل میں کلام کرتے ہیں۔ لیکن بے شعور جنتا لو پروفائل کی زبان نہیں سمجھتی۔ چنانچہ وہ ان لوگوں کے پیچھے دوڑ پڑتی ہے جو باقی پروفائل میں بول رہے ہوں۔ سنجیدہ قائد لوگوں کے سامنے حقیقت پسندانہ پروگرام پیش کرتا ہے۔ مگر بے شعور جنتا حقیقت پسندانہ پروگرام کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتی۔ چنانچہ وہ ان لوگوں کے پیچھے دوڑ پڑتی ہے جو فرضی نقشے بنا کر جذباتی تقریریں کر رہے ہوں۔ یہ ساری خرابی اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ بے شعور یا کم علم لوگ معاملات کا تجزیہ نہیں کر پاتے۔ اس لئے وہ استحصال لیڈروں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مئی ۱۹۹۸ میں ہندوستان کے موجودہ حکمرانوں نے فوجی خزانہ پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال کر پانچ ایٹی دھماکے کئے۔ اس پر امریکہ نے اعتراض کیا تو ہمارے لیڈروں نے کہا کہ امریکہ کو ہمارے اوپر اعتراض کرنے کا حق نہیں۔ کیونکہ ہم نے تو صرف پانچ ایٹی دھماکے کئے ہیں، جب کہ امریکہ اب تک دو ہزار سے زیادہ ایٹی دھماکہ کر چکا ہے۔ اس طرح ہمارے لیڈروں نے عوام کو جذباتی شراب پلا کر اتنا بے خود کر دیا کہ وہ معاملہ پر زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچ ہی نہ سکیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page