Al-Risala · November 1999 · page 28

My mission is to wipe away tears from all faces.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۸

حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں اصل تقابل دھماکوں کی گنتی کا نہیں ہے بلکہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی فرق کا ہے۔ امریکہ نے دو سو سال تک مسلسل تعمیری عمل کر کے اپنے ملک کو اعلیٰ ترین ترقی یافتہ ملک بنادیا۔ وہاں ہر قسم کی شہری سہولتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ہندوستان سے لاکھوں لوگ حتی کہ خود ہمارے لیڈروں کے بیٹے اور بیٹیاں بھاگ بھاگ کر امریکہ پہنچ رہے ہیں۔ ایسی حالت میں ہمارے لیڈروں پر فرض ہے کہ پہلے وہ ملک کے شہریوں کو وہ تمام سہولتیں فراہم کریں جو امریکہ کے شہریوں کو حاصل ہیں۔ اس کے بعد ہی وہ ایٹمی دھماکے کر سکتے ہیں۔ موجودہ حالت میں ایٹمی دھماکہ ایک ایسا ایتی تعیش ہے جس کا تحمل ہندوستان جیسا غریب ملک نہیں کر سکتا۔

دہلی کے ایک صاحب نے اس معاملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں میرے پاس اتنی پراپرٹی ہے کہ اگر میں ان سب کو بیچ دوں تو میں ایک ہوائی جہاز خرید سکتا ہوں۔ مگر میرا ہوائی جہاز خرید نا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اگلے دن میں اور میرے بچے بالکل بے سہارا حالت میں سڑک پر ہوں گے۔ ہندوستان کا ایٹمی دھماکہ جس اقتصادی تباہی کی قیمت پر ہوادہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنا سارا اثاثہ بیچ کر ایک ہوائی جہاز خرید لے اور فخر سے کہے کہ فلاں شخص کی طرح میں بھی ہوائی جہاز کا مالک ہو گیا، حالانکہ اس کے بعد اس کے پاس نہ رہنے کا کوئی گھر ہو اور نہ کھانے پینے کا کوئی سامان۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈر چودھری خلیق الزماں (۱۹۷۳–۱۸۸۸) نے ۱۹۴۳ میں فخر کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ نہرو سے زیادہ سیاست میرا کو جوان جانتا ہے۔ چودھری خلیق الزماں اور دوسرے مسلمان لیڈر اس بھر م میں تھے کہ "مسلمان" چونکہ ہزار سال سے حکومت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس لئے حکومت وسیاست ان کا خاندانی ہنر بن چکا ہے۔ پاکستان بن جائے گا تو اپنے آپ ہی مسلمان اس کا نظام بہتر طور پر چلانے لگیں گے۔ مگر پاکستان کی پچاس سالہ تاریخ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page