Al-Risala · November 1999 · page 29

My mission is to wipe away tears from all faces.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۹

ثابت کر رہی ہے کہ یہ مفروضہ مکمل طور پر بے بنیاد تھا۔

قومی یا ملی تعمیر ایک لمبا عمل ہے۔ وہ حال میں شروع ہو کر مستقبل میں اپنی تکمیل تک پہنچتا ہے۔ اس لئے قومی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ اس کو ایسے صاحب بصیرت لیڈر مل جائیں جو مستقبل میں ہوں اور اپنے زمانہ میں قومی عمل کو ایسا رخ دے سکیں جو مستقبل میں مطلوب نتیجہ ظاہر کرنے والا ہو۔

۱۸۷۳ سے پہلے اس بات کی ضرورت تھی کہ قوم کو تعلیم کے رخ پر چلایا جائے کیوں کہ تعلیم ہی وہ انسان بناتی ہے جو زندگی کے کاروبار کو بہتر طور پر سنبھالنے کا اہل ہو۔ الطاف حسین حالی (وفات ۱۹۱۴) اپنے زمانے کے مسلمانوں میں ایک بدنام شخص کی حیثیت رکھتے تھے۔ معاصر مسلمان ان کو اپنے رہنما کے طور پر قبول نہ کر سکے تاہم انھوں نے اس معاملہ میں نہایت صحیح اور سچی بات کہی تھی:

بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے تعلیم ہی ہے مگر ۱۸۷۳ سے پہلے کے دور میں تعلیم کے بجائے سیاسی آزادی کو زیادہ اہمیت دے دی گئی ۔ اس غلط ترجیح کا بھیانک نتیجہ یہ نکلا کہ ایک عظیم ملک ایک ایسی بھیڑ کے ہاتھ میں آگیا جس کو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ اس کے نظام کو کس طرح چلانا ہے۔

آزادی کے بعد سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی تھی کہ ملک میں بہترین مواقع کار پیدا کئے جائیں تاکہ ہر آدمی کو اپنے ترقیاتی حوصلوں کی تکمیل کے اسباب ملتے چلے جائیں۔ مگر آزادی کے بعد جس قیادت کے ہاتھ میں ملک کا سیاسی اختیار ملا وہ ایک بے شعور قیادت تھی۔ اس نے انتہائی نادانی کے ساتھ یہ کیا کہ زندگی کے تمام شعبوں کو حکومت کے کنٹرول میں لینے کو سب سے اہم کام سمجھ لیا۔ اس نے دیو پیکر پبلک سکٹر (صحیح تر لفظ میں سرکاری سکٹر) قائم کئے ۔ ہر سرگرمی کے لئے سرکاری پرمٹ اور سرکاری لائسنس کو ضروری بنا دیا۔ سماجی فلاح کے نام پر ایسے غیر فطری قوانین بنائے کہ جے آرڈی ٹاٹا کے الفاظ میں ایک کمپنی کا مالک اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page