Al-Risala · November 1999 · page 30

My mission is to wipe away tears from all faces.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۰

بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ مگر وہ اپنے ایک کارکن کو برخواست نہیں کر سکتا۔ “ ٹاٹا کا اشارہ اس صورت حال کی طرف تھا کہ لیبر کے حقوق کے تحفظ کے نام پر ایسے قوانین اور ضابطے بنائے گئے جو مکمل طور پر لیبر کے حق میں تھے۔ ہمارے حکمرانوں نے اپنے سوشلسٹ ذہن کی بنا پر یہ فرض کر لیا کہ کمپنی کا مالک لازماً ظالم ہو گا اور کمپنی کا ملازم لازماً مظلوم۔ چنانچہ انھوں نے آزادی کے بعد ایسے قوانین اور ضابطے بنائے جو ایک طرفہ طور پر ملازمین کے موافققت میں تھے یہ قوانین ملازمین کے حق میں اندھا ہتھیار بن گئے ہیں جن کے ذریعہ وہ اقتصادی ادارہ کو اکسپلوائٹ کریں اور اقتصادی ادارے بے بسی کے ساتھ اس کا تماشہ دیکھتے رہیں۔ مزید یہ کہ تحفظ حقوق کے اس سوشلسٹ نظریہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقتصادی عمل سے مسابقت کا عنصر ختم ہو گیا۔ ان غیر فطری قوانین نے کروڑوں لوگوں کو اس بات سے بے خوف بنا دیا کہ ان کے جاب کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ انھیں یقین ہو گیا کہ وہ ڈیوٹی ادا کئے بغیر بھی اپنے حقوق کو پا سکتے ہیں۔ اس طرح ان نام نہاد قوانین نے ملک کے کروڑوں لوگوں کو کاہل بنا دیا اور ڈیوٹی کی اہمیت کا احساس ان کے اندر سے ختم کر دیا۔

ملک کی تقسیم کی تحریک ایک غیر فطری تحریک تھی۔ مزید یہ کہ وہ انتہائی غیر فطری انداز میں چلائی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا نقصان واقعی نقصان سے کئی گنا زیادہ ہو گیا۔ تقسیم بذات خود کوئی گناہ کی بات نہیں۔ مگر کوئی کام حتی کہ کھانا اور پینا بھی اگر غلط طریقہ سے کیا جائے تو وہ آدمی کے لئے نقصان کا سبب بن جائے گا۔ یہی معاملہ تقسیم کے ساتھ پیش آیا۔

1۔ پہلی بات یہ کہ تقسیم کی تحریک کسی ایجابی سوچ کے تحت نہیں اٹھی وہ تمام تردد عمل کے تحت اٹھی۔ کچھ ہندوؤں کے فرقہ وارانہ تحریک نے مسلمانوں میں جوابی فرقہ واریت پیدا کی اور اس نے آخر کار تقسیم کی تحریک کا رخ اختیار کر لیا۔ اس تحریک کے سب سے بڑے قائد

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page