Al-Risala · November 1999 · page 31

My mission is to wipe away tears from all faces.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۱

زبردست نیشنلٹ اور لمبی مدت تک کانگریسی تھے۔ بعض واقعات کی بنا پر وہ کانگریسی قائدین سے غصہ ہو گئے اور آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہو کر تقسیم کی تحریک کے علمدار بن گئے۔ رد عمل کی نفسیات کے تحت جو تحریک شروع کی جائے وہ منفی نتائج تو ضرور پیدا کر سکتی ہے مگر وہ مثبت نتائج کا سبب نہیں بن سکتی۔ یہی پاکستان کے ساتھ پیش آیا۔ ۲۔ تقسیم کے بعد پاکستان عملاً جہاں بننے والا تھا وہ مسلم اکثریت کا علاقہ تھا۔ مگر یہ تحریک زیادہ تر ان علاقوں میں چلائی گئی جہاں مسلمان اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اکثریتی علاقہ کے مسلمان اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ مل جل کر رہ رہے تھے۔ ان کے یہاں "ہندو مسئلہ " نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اس لئے ان کے درمیان تقسیم کی تحریک پنپ نہ سکی۔ البتہ مسلم اقلیت والے علاقے کے مسلمان ہندو کی طرف سے عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا تھے۔ اس لئے یہاں اس تحریک کو مفید میدان مل گیا۔ مگر تحریک کا یہ انداز خطر ناک حد تک غیر فطری تھا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان عملاً مسلم اکثریت کے علاقہ میں بنا مگر اس کی قیمت تمام تر اس علاقہ کے مسلمانوں کو دینی پڑی جہاں وہ اقلیتی حیثیت رکھتے تھے کیوں کہ اسی علاقہ میں پاکستانی تحریک کی دھوم مچائی گئی تھی۔

۳۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کی تحریک کی قیادت مسٹر طبقہ نے کی۔ علماء کا طبقہ تقریباً 99 فیصد اس سے الگ رہا۔ بالفاظ دیگر پاکستان کی تحریک ایک قومی اور مادی تحریک تھی ۔ وہ کسی بھی درجہ میں کوئی مذہبی یا اسلامی تحریک نہ تھی۔ مگر عوام کا استحصال کرنے کے لئے مسلسل طور پر اس کے حق میں اسلام کا نام استعمال کیا گیا۔ اس کی حمایت میں یہ لفظی نعرہ وضع کیا گیا کہ: پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الااللہ۔

ایک قومی تحریک کو اسلامی تحریک بنانا سرا سر دو عملی کا ایک فعل تھا۔ یہ وہی چیز تھی جس کو شریعت کی زبان میں منافقت کہا جاتا ہے۔ یہ منافقانہ سیاست کا ایک ایسا واقعہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال اسلام کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ منافقانہ روش پاکستان

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page