Al-Risala · November 1999 · page 32

My mission is to wipe away tears from all faces.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۲

کی تمام پالیسیوں کا اہم ترین عنصر بن گیا۔ ہر غیر دینی کام کو دینی اصطلاح میں بیان کرنا پاکستان کے دانشوروں کا کمال قرار پایا۔ اسلام کی پوری تاریخ میں میرے علم کے مطابق، کوئی بھی مسلم گروہ ایسا نہیں جس نے منافقت ہی کو اپنی تمام پالیسیوں کی بنیاد بنایا ہو۔ تقسیم کے نتیجہ میں بننے والا مسلم ملک ہی اس کی واحد تاریخی مثال ہے جس کو بر عکس طور پر پاکستان کہا جاسکتا ہے۔ ۴۔ پاکستان جب بنا تو لیڈروں کی نا عاقبت اندیشانہ سیاست کے نتیجہ میں سرحد کے دونوں طرف بھیانک فسادات پھوٹ پڑے۔ لوٹ مار اور قتل و غار تگری کا زبردست سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کے نتیجہ میں نفرت کی ایک خونیں فصل اگ آئی۔

تقسیم کے بعد سرحد کے دونوں طرف عرصہ دراز تک لوگ زبان اور قلم کے ذریعہ اس کی خونیں داستانیں دہراتے رہے۔ اس داستان سراعی کا بد ترین پہلو یہ تھا کہ پاکستان میں لکھی جانے والی کتابوں میں صرف ان واقعات کا تذکرہ تھا جو بوقت تقسیم ہندوؤں نے مسلمانوں پر کئے۔ اور انڈیا میں لکھی جانے والی کتابوں میں صرف ان واقعات کا تذکرہ تھا جس میں ہندو مسلمانوں کے ظلم کا شکار ہوئے۔ مکمل رپورٹنگ کی جاتی تو دونوں کے درمیان توازن رہتا مگر مذ کورہ قسم کی یکطرفہ رپورٹنگ نے سرحد کے دونوں طرف نفرت اور عداوت کی آگ بھڑکا دی جو کسی طرح ختم ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔

۵۔ پاکستان کی بنیاد اگر اسلام پر ہوتی تو وہاں اپنے پڑوسیوں کے لئے محبت اور خیر خواہی کا جذبہ ابھرتا کیونکہ اسلام دوسری قوموں کو اپنا مد غو سمجھتا ہے۔ اور مد عو کے حق میں ہمیشہ محبت کی نفسیات پیدا ہوتی ہے نہ کہ عداوت کی۔ نفسیات۔ مگر پاکستان کی بنیاد با اعتبار حقیقت اسلام تھی ہی نہیں۔ پاکستان ہندوؤں سے قومی نفرت کی بنیاد پر بنا اسی کا یہ لازمی نتیجہ تھا کہ پاکستان بننے کے بعد وہاں رات دن ہندو اور بھارت کے خلاف نفرت کا پروپیگنڈہ ہونے لگا۔ بھارت کا لفظ پاکستانی زبان میں، ایک نفرت انگیز چیز کی ہم معنی بن گیا۔ پاکستانی علماء اور دانشوروں کا ذہن یہ بن گیا کہ پاکستان - کی بقا اور اس کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ ہر پاکستانی کو بھارت سے متنفر کر دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page