My mission is to wipe away tears from all faces.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۳
پچھلے پچاس سال میں پاکستان کی ہر تقریر و تحریر بھارتی نفرت سے بھری ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم نقصان ہے۔ کیونکہ کوئی قوم نفرت کی بنیاد پر نہ کھڑی ہو سکتی ہے اور نہ ترقی کر سکتی ہے۔
۶۔ تقسیم کا مطلب علیحدگی ہے۔ دو بھائیوں میں جائداد کی تقسیم ہو تو دونوں کی فلاح اس میں ہے کہ اول دن ہی ہر چیز کا کامل بٹوارہ ہو جائے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ خاندانی بٹوارہ کے بعد اگر ایک درخت بھی متنازع رہ جائے تو اس پر بھی لڑائی شروع ہو جاتی ہے جو دونوں کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہے۔
پاکستان کے قائدین کے لئے فرض کے درجہ میں ضروری تھا کہ وہ اس حقیقت کو جانیں اور ۱۵ اگست ۱۹۴۷ ہی کو اس طرح مکمل طور پر الگ ہو جائیں کہ اس کے بعد کوئی بھی چیز غیر منقسم حالت میں باقی نہ رہے۔ مگر اس سنگین حقیقت کو نہ پاکستانی قائدین نے سمجھا اور نہ ہندوستانی قائدین نے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تقسیم کے باوجود کشمیر کی ریاست نزاعی حالت میں پڑی رہی۔ یہ بلاشبہ دونوں طرف کے قائدین کے لئے ایک ہمالیائی غلطی تھی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انڈیا اور پاکستان دونوں ہی کے وسائل کا پچاس فیصد سے زیادہ حصہ کشمیر کے نزاع پر قربان ہو رہا ہے۔ پچاس سال گزرنے کے باوجود یہ مسلسل تباہی ختم ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ دونوں ملکوں کے قائدین کا یہ اہم ترین فرض تھا کہ تقسیم کے وقت ہی وہ کسی بھی صورت میں اس مسئلہ کا مکمل خاتمہ کر دیتے۔ مگر دونوں میں سے کسی بھی ملک کی قیادت نے اس معاملہ میں تدبر کا ثبوت نہیں دیا۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بعد از خرابی بسیار ۱۹۷۲ء میں وہ معاہدہ کیا جس کو عام طور پر شملہ ایگریمنٹ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت پاکستانی وزیر اعظم نے بلا اعلان یہ مان لیا تھا کہ قبضہ کی لائن (LoC) دونوں ملکوں کے درمیان تسلیم شدہ سرحد ہوگی۔
پاکستان کے لوگوں نے اگر ۱۹۷۲ کے اس معاہدے کو دل سے مان لیا ہو تا تو پچھلے پچیس
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues