Al-Risala · November 1999 · page 34

A new India is rising.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۴

سال میں پاکستان نے اتنی ترقی کی ہوتی کہ اس کے عوام کشمیر کو بھول جاتے۔ مگر پاکستانی حکمرانوں نے کاغذ پر تو دستخط کر دیئے مگر وہ اس کو اپنی عملی پالیسی نہ بنا سکے۔ ۱۹۴۷ کے بعد پاکستان میں ایک نئی تاریخ بننے والی تھی مگر وہ بنتے بنتے رہ گئی۔

۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں ایک انقلابی شاعر نے ایک نظم لکھی جس کا ایک شعر یہ تھا: برج محسن سے نکلا سورج روشن اپنا مستقبل ہے اس تصور کو لیکر طفیل احمد منگلوری نے ایک کتاب لکھی۔ جس کا نام انھوں نے روشن مستقبل رکھا یہ کتاب اس زمانہ میں بہت مقبول ہوئی۔ اس واقعہ کے تقریباً ۶۰ سال بعد یکم جون ۱۹۹۸ کو میں آل انڈیا نشریات سن رہا تھا۔ اس تاریخ کو بھاجپا گورنمنٹ کے وزیر مالیات مسٹر یشونت سنہا نے ۱۹۹۹-۱۹۹۸ کا بجٹ پیش کیا۔ اپنی بجٹ اسپیچ انھوں نے اس جملے سے شروع کی کہ آج ایک نیا انڈیا ابھر رہا ہے:

A new India is rising.

انھوں نے کسی قدر جوش کے ساتھ کہا کہ ۱۱ مئی کو پوکھرن سے جو سفر شروع ہوادو پیچھے جانے والا نہیں، میں نے سوچا کہ اپنی نوجوانی کی عمر سے اب تک میں بار بار مختلف لفظوں میں یہ بات سنتارہاہوں۔ مگر آج تک یہ الفاظ واقعہ نہیں بنے۔ نہ سورج نے نکل کر ہماری تاریکیوں کو روشن کیا اور نہ نئے انڈیا کا محل تعمیر ہوسکا۔ بظاہر مستقبل قریب تک اس کی کوئی امید نہیں۔ اس ناکامی کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے رہنما ایک چیز سے ایسی امید باندھتے رہے ہیں جس سے اس کا حصول ممکن ہی نہیں تھا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے لوگوں نے جس چیز کو روشن مستقبل سمجھا تھا اس کا تعلق صرف سیاسی تبدیلی سے تھا۔ لوگ سمجھتے تھے کے انگریزی راج کا ختم ہونا ملک کے افق پر نئی صبح کا طلوع ہونا ہے۔ حالانکہ محض پولیٹیکل ٹیم کی تبدیلی کسی قوم کے لئے روشن مستقبل کی ضمانت نہیں اسی طرح اب ۱۹۹۸ میں ایٹمی دھماکہ کے بعد نئے انڈیا کی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page