A new India is rising.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۵
باتیں کی جارہی ہیں۔ مگر یہ بھی محض ایک فرضی امید ہے۔ ایٹمی دھماکہ کا تعلق ایک ایسی سرگرمی سے ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے تمام تر سلبی ہے اور ایک سلبی سرگرمی سے خواہ بظاہر وہ کتنا ہی بڑی ہو، کوئی ایجابی نتیجہ بر آمد ہونے والا نہیں۔ اس قسم کی ایٹمی سرگرمی صرف وسائل کو کھانے والی ہے نہ کہ وسائل کو مفید چیزوں میں تبدیل کرنے والی۔
روشن مستقبل یا نئے انڈیا کا ظہور جس چیز پر منحصر ہے وہ وسیع تر سماجی تبدیلی ہے نہ کہ محض سیاسی تبدیلی۔ پہلے ہوئے ملک کے قدرتی ذرائع مثبت مقاصد کے لئے استعمال ہوں۔ ایسی پلاننگ کی جائے جس کے نتیجہ میں لوگوں کو صاف پانی اور تازہ ہوا مل سکے۔ ملک کو ایسا ایڈمنسٹریشن دیا جائے جس کے تحت دفتروں میں رشوت کے بغیر کام ہو۔ عدالتوں میں ایک عام آدمی کو انصاف ملے، سڑک، بجلی، ٹیلی فون اور دوسری ضروری چیزیں معیاری صورت میں دستیاب ہوں۔ ریل اور ٹرانسپورٹ کے شعبے اس طرح منظم ہوں کے لوگوں کے لئے محفوظ اور بروقت سفر کرنا ممکن ہو جائے۔ اسپتالوں میں ہر آدمی بہ آسانی اپنا علاج پا سکے۔ مگر ان چیزوں کا تعلق نہ ایٹمی دھماکہ سے ہے اور نہ سیاسی گدی پر ایک کو ہٹا کر دوسرے کو بٹھانے سے۔ میرے جیسے ایک آدمی کو مذکورہ قسم کے الفاظ سے کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ میری بوڑھی آنکھیں ملک میں تعمیر و ترقی کا ایک حقیقی عمل دیکھنا چاہتی ہیں۔ مگر بد قسمتی سے ابھی تک اس کا آغاز بھی نہیں ہوا۔
ہندوستان نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی قیادت کے تحت پانچ ایٹمی دھماکے کئے ۔ یہ دھماکے ۱۱ مئی اور ۱۳ مئی ۱۹۹۸ء کو پوکھرن (راجستھان) میں کئے گئے ۔ اس کے بعد پاکستان میں اس کا رد عمل ہوا پاکستانی عوام کی طرف سے شدید مطالبہ ہونے لگا کہ پاکستان کو بھی اس کے جواب میں ایٹمی دھماکہ کرنے چاہیے۔ یہ معاملہ پر شور طور پر عالمی میڈیا میں گونجتا رہا۔ امریکہ نے اصرار کے ساتھ کہا کہ پاکستان خاموشی اختیار کرلے اور ہندوستان کے جواب میں ایٹمی دھماکہ نہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues