A new India is rising.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۶
کرے۔ امریکی حکومت نے کہا کہ دھماکہ کرنے کی صورت میں پاکستان کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی اور دھماکہ نہ کرنے کی صورت میں نہ صرف اس کی اقتصادی مدد جاری رہے گی بلکہ اس کو ’’ایٹی چھتری‘‘ بھی دی جائے گی۔ تاکہ اس کے لئے ہندوستانی حملہ کا خطرہ باقی نہ رہے۔ آسٹریلیا نے یہ تجویز پیش کی کہ پاکستان اگر ایٹمی دھماکہ نہ کرے تو ترقی یافتہ ممالک اس کی امداد کی رقم کو دو گنا کر دیں۔
مگر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے لئے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ پاکستان کے جذباتی عوام کا یہ مطالبہ اتنا شدید تھا کہ اس کو نہ ماننے کی صورت میں یقینی طور پر اتنا ہنگامہ کھڑا ہوتا کہ نواز شریف کی حکومت ختم ہو جاتی۔ کئی دن کے متضاد خبروں کے بعد آخر کار ۲۸ مئی ۱۹۹۸ء کی شام کو پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے ٹی وی پر اعلان کیا کہ آج شام چار بجے ہم نے بلوچستان کے صحرا میں پانچ ایٹمی دھماکہ کئے ہیں۔ اگلے دن پاکستان نے ایک اور ایٹمی دھماکہ کیا۔ اس دھماکہ کے فوراً بعد امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں نے اعلان کر دیا کہ وہ پاکستان کی اقتصادی امداد کو فوری طور پر بند کر رہے ہیں۔
پاکستان کے اس دھماکہ کے بعد امریکی صدر بل کلنٹن نے شدید رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک نہایت قیمتی موقع (Priceless opportunituy) کھو دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تبصرہ بالکل درست تھا بد قسمتی سے پاکستان میں جتنے بھی لیڈر پیدا ہوئے، ابتدائی قائد سے لے کر آخری قائد تک، ہر ایک پاکستانی مسلمانوں کو جذباتی شراب پلا تا رہا۔ پاکستان کے تمام علماء اور دانشور وہاں کے لوگوں کو فخر کی خوراک دیتے رہے۔ اسی بگڑے ہوئے مزاج کا یہ نتیجہ تھا کہ پاکستان کے یہ عوام و خواص اپنی تاریخ کے اس انتہائی فیصلہ کن موقع پر جذبات کی رو میں بہہ گئے۔ وہ معاملات میں حقیقت پسندانہ رائے قائم کرنے سے قاصر رہے۔
پاکستان کے لوگ اگر سوچ بوجھ سے کام لیتے تو یقیناً وہ جان لیتے کہ ہندوستان کے ایٹمی - دھماکہ کا جواب دوبارہ ایٹمی دھماکہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کا زیادہ موثر جواب یہ ہے کہ عالمی رائے کا
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues