Al-Risala · November 1999 · page 37

No defence is higher then education

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۷

احترام کیا جائے۔ اگر پاکستان کو ہندوستان کی طرف سے ایٹمی حملہ کا خطرہ تھا تو اس کا زیادہ کار گر حل یہ تھا کہ امریکہ کے پیشکش کے مطابق اس کی طرف سے فراہم کردہ ایٹمی چھتری کو قبول کر لیا جائے، جیسا کہ جاپان نے قبول کر رکھا ہے، اس کے مقامی وسائل اور عالمی ادارہ کے ذریعہ ملک کی اقتصادی اور تعلیمی ترقی کا کام پوری توجہ کے ساتھ شروع کر دیا جائے۔ پاکستان اگر اس حقیقت پسندانہ منصوبہ پر عمل کرتا تو دس سال میں وہ اتنی زیادہ ترقی کر لیتا۔ کہ ایٹمی دھماکہ کے بغیر ہی وہ ایک ناقابل تسخیر طاقتور ملک بن جاتا۔

حقیقی لیڈر شپ وہ ہے جو اپنی قوم کو حقیقت پسند بنائے۔ اس کے بر عکس جو قیادت اپنی قوم کو جذباتیت کی خوراک دے وہ سرے سے قیادت ہی نہیں۔

صاحب بصیرت لوگ جانتے ہیں کہ کسی ملک کے لئے دفاع کا مسئلہ ہو تب بھی اس کا حل عوام کو ایجوکیٹ کرنا ہے نہ کہ مہلک ہتھیاروں کا ذخیرہ اکٹھا کرنا۔ ۹ جولائی ۱۹۹۸ء کو نئی دہلی کے مالینکر ہال میں ایک جلسہ تھا۔ موجودہ ہندوستانی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی بطور چیف گیسٹ وہاں موجودہ تھے۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں ہندوستان کے ایٹمی دھماکہ کو ڈیفنس کی ایک اعلیٰ تدبیر کے طور پر پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ پوکھرن کے ایٹمی دھما کہ نے ساری دنیا کو ہلا دیا ہے۔

پروفیسر یشپال نے بھی اس موقع پر تقریر کی انھوں نے وزیر اعظم کا حوالے دیئے بغیر کہا کہ دفاع سمیت ہر مسئلہ کا ایک ہی حل ہے، اور وہ ہے قوم کو اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانا۔ انھوں نے اس کی تفصیل کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم سب سے زیادہ اعلیٰ دفاع ہے:

No defence is higher then education

بدقسمتی سے زندگی کی اس حقیقت کا علم نہ ہندوستان کے لیڈروں کو ہے اور نہ پاکستان کے لیڈروں کو۔ ۲۸ مئی ۱۹۹۸ کو پاکستان نے اپنے اعلان کے مطابق، ایک ہی دن پانچ ایٹم ٹسٹ کئے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page