Al-Risala · November 1999 · page 38

No defence is higher then education

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۸

تھے۔ ۳۰ مئی ۱۹۹۸ء کو حکومت پاکستان نے اعلان کیا کہ آج اس نے بلوچستان کے ریگستان میں ایک اور ایٹمی ٹیسٹ کیا ہے۔ اس کے آخری دھماکہ کی طاقت ہیر و شیما میں گرائے جانے والے ایٹم بم (۱۹۴۵) کے مقابلہ میں دو گنا تھی۔ اس طرح پاکستان نے انڈیا کے پانچ ایٹمی دھماکہ کے مقابلہ میں چھ ایٹمی دھماکہ کئے ۔

۳۰ مئی کے اس دھماکہ کے بعد پاکستانی حکومت نے اعلان کیا کہ اب ہم نے دوبارہ اس علاقہ میں طاقت کا وہ توازن قائم کر لیا ہے جو ہندستان کے ایٹمی دھماکہ کے بعد ٹوٹ گیا تھا۔ مگر کیا ایٹمی دھماکہ اس مسئلہ کا حل ہے۔ تاریخ کا جواب یہ ہے کہ ہر گز نہیں۔

ٹھیک اسی قسم کی صورت حال امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان پیش آچکی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران ۱۹۴۵ میں جب امریکہ نے ہیرو شیما اور ناگاساکی پر اپنے ایٹم بم کا تجربہ کیا تو اس کے بعد سوویت یونین کے لیڈروں نے کہا کہ اب فوجی طاقت کا توازن امریکہ کے حق میں چلا گیا ہے۔ اس لئے ہم کو بھی ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بنانا چاہئے۔ سوویت یونین جس کا رقبہ اس وقت ہندستان اور پاکستان سے زیادہ تھا اس نے اپنے تمام اقتصادی وسائل اب شٹک ریسرچ اور ایٹم بم کی تیاری میں لگادیئے یہاں تک کہ اس کے وسیع اسلحہ خانہ میں ۲۹ ہزار چھوٹے بڑے ایٹم بم بن کر اکٹھا ہو گئے۔

اب سوویت یونین اس پوزیشن میں تھا کہ امریکہ سمیت اپنے تمام دشمنوں کو اسی طرح تباہ کر دے جس طرح ہیر و شیما تباہ ہوا تھا۔ مگر انتہائی نازک حالات کے باوجود سوویت یونین اپنا ایک بم بھی اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ ۱۹۹۱ میں سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ ایٹم بموں کا ذخیرہ اس کے لئے اپنی سپر پاور حیثیت کو بچانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اس کھلی ہوئی قریبی مثال سے انڈیا اور پاکستان کے سیاسی لیڈروں نے کوئی سبق نہیں لیا۔ دونوں میں سے ہر ایک یہ اعلان کر رہا ہے کہ ہم سیلف ڈیفنس کے لئے ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بنا رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقی واقعات یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ایٹم بم کا کوئی بھی تعلق سیلف ڈیفنس

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page