Al-Risala · November 1999 · page 39

No defence is higher then education

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۹

سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق صرف سیلف ڈسٹرکشن (خود تخریبی) سے ہے۔ ایٹم بم اگر استعمال ہوں تب بھی وہ ہلاکت ہیں اور اگر وہ استعمال نہ ہوں تب بھی ہلاکت۔

انڈیا اور پاکستان کے لیڈروں کو یہ خبر نہیں کہ ایٹم بم اگر بالفرض استعمال ہوں تب بھی ان کی زد میں صرف حریف قوم نہیں آتی بلکہ خود استعمال کرنے والا بھی ان کے غیر معمولی نقصانات کے زد میں آجاتا ہے۔ ایٹمی جنگ بلاشبہ ایک بوم رینگ (boomerang) کھیل ہوگا۔ کیوں کہ اس کے نتیجہ میں نہ صرف زیر نشانہ پڑوسی ملک تباہ ہوگا بلکہ خود ایٹم بم مارنے والا ملک بھی یقینی طور پر اس کے زد میں آجائے گا۔ ایٹم بم گرانے کے بعد جو تابکاری (tadiactivity) پھیلے گی، فضائی کثافت میں جو اضافہ ہوگا، سمندروں کا پانی جس طرح زہر آلود ہوگا اور ان سب کے نتیجہ میں جو بیماریاں پھیلیں گی، دونوں ملک یکساں طور پر اس کی لپیٹ میں آجائیں گے۔

تاہم ایٹم بم اگر استعمال نہ ہوں وہ بنا بنا کر صرف رکھے جاتے رہیں تب بھی وہ ناقابل بیان حد تک ہلاکت خیز ہیں۔ اس کے نتیجہ میں جو طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ اتنی مہنگی قیمت پر تیار ہوتے ہیں کہ پورے ملک کی اقتصادی حالت تباہ و برباد ہو جائے، چیزوں کی قیمت میں بے پناہ اضافہ، ضروری اشیا کی شدید قلت، چیزوں میں ملاوٹ کا طوفان، حتیٰ کہ تازہ پانی اور صاف ہوا جیسی چیزوں کے حصول کا بھی مشکل ہو جانا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کے لئے ایٹمی طاقت بننا ہولناک حد تک اس کی اقتصادی کمزوری پر منتج ہوتا ہے۔ اس کا کھلا ہوا نمونہ سوویت یونین (موجودہ روس) کو اس صورت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ جو ملک 1990 تک سپر پاور سمجھا جاتا تھا۔ وہ آج اقتصادی اعتبار سے ایک تباہ شدہ ملک بن چکا ہے۔ میں نے خود اپنے ایک سفر کے دوران سوویت یونین کی یہ تباہ حالت دیکھی ہے۔ جس کو میں اپنے سفر نامہ میں لکھ چکا ہوں۔ (سفر نامہ روس، مطبوعہ الرسالہ فروری۔ مارچ 1991) کہا جاتا ہے کہ ایٹمی ہتھیار مانع جنگ کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس طرح وہ امن کی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page