Al-Risala · November 1999 · page 40

No defence is higher then education

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۰

ضمانت (پیش گارنٹر) ہیں۔ مگر یہ ایک شدید مغالطہ ہے۔ امریکہ اور سوویت یونین کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب دونوں ملکوں نے ایٹمی مانع کی صلاحیت حاصل کرلی تو صرف یہ ہوا کہ دونوں میں براہ راست فوجی ٹکراؤ کا امکان ختم ہوگیا۔ اور اس کے بجائے وہ ٹکراؤ شروع ہو گیا جس کو مخفی جنگ (covert war) کہا جاتا ہے۔ کولڈ وار اور پراکسی وار اس کی صورتیں ہیں۔ دوسری قسم کی جنگ جو امریکہ میں اور سوویت یونین کے درمیان جاری ہوئی، 1991 تک اس کے تحت دنیا کے مختلف حصوں میں تقریباً دو کروڑ انسان ہلاک ہو گئے۔ گویا ایٹمی ہتھیار جنگ کو روکے والا نہیں ہے۔ بلکہ وہ صرف یہ کرتا ہے کہ جنگ کے میدان کو بدل دیتا ہے۔

جنگ کیوں ہوتی ہے۔ جنگ کا اصل سبب دو گرہوں کے درمیان دشمنی کی نفسیات ہے۔ جب دلوں میں دشمنی کے جذبات موجود ہوں تو کوئی ہتھیار جنگ کو بند نہیں کرتا، وہ صرف جنگ کی صورت کو بدل دیتا ہے، اس طرح اکثر حالات میں جنگی ٹکراؤ اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔ اس کا نمونہ ہمیں انڈیا اور پاکستان کے درمیان بھی نظر آتا ہے۔ مئی 1998 میں جب دونوں ملکوں نے اس بات کا مظاہرہ کیا کہ انھوں نے ایٹمی ہتھیار بنا لئے ہیں تو اس کے بعد ہی سرحد پر پرتشددانہ سرگرمیاں بڑھ گئیں۔ بم اور گن کے استعمال میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔ پاکستان نے نواز شریف حکومت کے تحت 28 مئی اور 30 مئی کو مجموعی طور پر چھ ایٹمی دھماکے کئے ۔ بالفاظ دیگر، یہ ثابت کیا کہ وہ ایٹم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایٹمی دھما کے ہندوستان کے جواب میں کئے گئے جو 11 مئی اور 13 مئی 1998 کو پانچ کی تعداد میں کئے گئے تھے۔ اس کے بعد ایران کے وزیر خارجہ مسٹر کمال خرازی پاکستان آئے۔ 2 جون 1998 کو انھوں نے اس کے بارے میں کہا کہ پاکستان کے کامیاب ایٹمی دھماکہ نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو نیا اعتماد عطا کیا ہے۔ ملیشیا کے مسلم لیڈر انور ابراہیم کا تاثر اس سے مختلف تھا۔ انھوں نے انڈیا اور - پاکستان دونوں ملکوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھما کے دونوں ملکوں کے غریب لوگوں کی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page