No defence is higher then education
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۱
قیمت پر کئے گئے ہیں:
میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں انور ابراہیم کا تبصرہ ہی زیادہ درست ہے۔ کسی قوم کے اعتماد اور طاقت کا راز یہ نہیں ہے کہ اس کے پاس ایٹم بموں کا ذخیرہ ہو، اگر ایسا ہوتا تو سوویت یونین کبھی نہ ٹوٹتا۔ جس کے پاس ہندوستان اور پاکستان کے مقابلہ میں ہزاروں گنا زیادہ ایٹم بم تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی اعتماد اور قومی طاقت کا راز یہ ہے کہ ملک میں سماجی امن ہو۔ ضرورت کی چیزیں مناسب قیمت پر مل رہی ہوں۔ شہری سہولتیں ہر ایک کو بخوبی طور پر پہنچ رہی ہوں۔ تعلیم اور علاج کا عمدہ انتظام ہو، دفتروں میں رشوت کے بغیر کام ہوتا ہو۔ وغیرہ۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں انتہائی غریب ملک ہیں۔ جہالت سے لے کر بھٹ شٹار چار تک ہر قسم کی برائیوں نے عام انسان کی زندگی کو مصیبت بنا رکھا ہے۔ ایسی حالت میں ان ملکوں میں ایٹم بم بنانا در اصل لوگوں کو غریب اور بد حال رکھ کر قومی دولت کو ایٹمی دھماکوں میں تباہ کرنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ عمل اتنا زیادہ تباہ کن ہے کہ کسی ملک کے عوام بھی اس کو برداشت نہیں کر سکتے۔ مگر سطحی قسم کے لیڈر عوام کو نفرت اور جوش کی شراب پلا کر اس طرح بد ہوش کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے فائدہ اور نقصان کو بھی سمجھ نہیں پاتے۔ ان کا نشہ صرف اسی وقت اترتا ہے جب کہ بربادی اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہو اور سرے سے واپس لوٹنے کا امکان ہی باقی نہ رہے۔
دونوں ملک دفاع کے نام پر ایٹمی دھماکہ کر رہے ہیں۔ مگر دفاع کا کوئی تعلق ایٹم بم سے نہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایٹم بم جیسی ہلاکت خیز چیز تاریخ میں صرف ایک بار استعمال ہوتی ہے۔ پھر جب ایک بار استعمال کئے جانے کے بعد ایٹم بم کے مزید استعمال کے خلاف عالمی سطح پر ایک طاقتور مانع (Deterrent) قائم ہو چکا ہو، تو اس پر نہ ہونے والے حملہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues