No defence is higher then education
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۶
سے دفاع کی آخر کیا ضرورت۔
مئی ۱۹۹۸ء سے پہلے تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ دنیا میں مبینہ طور پر پانچ ایسی قو میں ہیں جن کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ مگر اب انڈیا اور پاکستان کی طرف سے ایٹمی دھماکہ کے بعد ایسی طاقتوں کی تعداد سات ہو چکی ہے۔ حتی کہ فرانس نے تجویز کیا ہے کہ ان کو شامل کرتے ہوئے سات نیو کلیر قوموں (7-N) کا اجتماع بلایا جائے۔ عجیب بات ہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں مگر دونوں نے مئی میں جو ایٹمی دھماکے کئے ہیں ان کے پیچھے اصل دماغ دونوں جگہ دو مسلم سائنس دانوں کا ہے۔ انڈیا میں ڈاکٹر عبد الکلام، اور پاکستان میں ڈاکٹر عبد القدیر۔ بی بی سی لندن نے یکم جون ۱۹۹۸ کو پاکستانی سائنس داں ڈاکٹر عبد القدیر کا ایک انٹرویو نشر کیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ ایسے خونیں اور امن شکن ہتھیار آپ کیوں بنا رہے ہیں۔ ان کا جواب یہ تھا کہ: ایٹم بم کو میں سب سے بڑا ضامن امن (peace granter) سمجھتا ہوں اب جب کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کے پاس ایٹم بم ہیں تو مجھے یقین ہے کہ اب ان کے درمیان کبھی جنگ نہیں ہوگی۔
مگر ایک غیر جانب دار مبصر کے لئے اس سے اتفاق کرنا مشکل ہے۔ پاکستان کا کہنا کہ انڈیا نے جارحیت کر کے کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کے لئے ہمیں ایٹم بم کی تیاری تک جانا پڑا اگر صرف ایٹم بم بنانے سے پاکستان کو کشمیر نہیں مل سکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ انڈیا کو پاکستان کے خلاف کسی آئندہ جارحیت سے روک سکے مگر تمام واقعات بتاتے ہیں کہ انڈیا کا ایسا کوئی جارحانہ ارادہ نہیں۔
پھر پاکستان نے ایٹم بم کیوں بنایا اگر پاکستان اپنے ایٹم بم کو استعمال کرے تو خود ڈاکٹر عبد القدیر کے اعتراف کے مطابق یہ اس کے لئے ایک خود کشی کا فعل ہو گا جس میں کشمیر اور پاکستان دونوں تباہ ہو جائیں گے۔ گویا کہ ایٹم بم کو استعمال کرنا یا اس کو استعمال نہ کرنا دونوں ہی
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues