No defence is higher then education
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۳
پاکستان کے لئے غیر مفید ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالت میں پاکستان کے لئے دوسرا زیادہ بہتر انتخاب (choice) موجود تھا اور وہ تصورٹ موجودہ (status quo) کو مان لینا۔ نہایت مہنگی قیمت پر ایٹم بم بنانے کے باوجود پاکستان کے لئے یہی مقدر ہے کہ وہ کشمیر کے معاملہ میں صورت موجودہ (لائن آف ایکچول کنٹرول) پر نہ چاہتے ہوئے بھی راضی رہے۔ کیوں کہ اس کا دوسرا بدل صرف قومی خود کشی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ اس معاملہ میں امریکہ اور دوسری مغربی قوموں کی پیشکش کو مان لے۔ اس پیشکش میں اس کو دو قیمتی چیزیں مل رہی تھیں ۔ ۔ ایک نہایت فیاضانہ اقتصادی امداد۔ دوسرے امریکہ کی طرف سے قابل اعتماد نیو کلیئر تحفظ۔
حقیقت یہ ہے کہ ایٹم بم نہ انڈیا کے لئے مفید ہے اور نہ پاکستان کے لئے۔ دونوں ہی کے لئے وہ سفید ہاتھی پالنے کے ہم معنی ہے۔ دونوں ہی نے اس کو اپنے قومی فخر (pride) کے لئے بنایا ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں قومی دفاع کے لئے جب متفقہ طور پر ایٹم بم قابل استعمال ہی نہ ہو تو کوئی فوجی مقصد اس سے کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں فوجی یا غیر فوجی مقاصد کے لئے پر امن ڈائیلاگ ہی ایک ممکن تدبیر ہے۔ متشردانہ تدبیر اب سرے سے قابل عمل ہی نہیں پر تشدد عمل میں یقینی خطرہ ہے کہ آج جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ بھی آپ کے پاس باقی نہ رہے۔ یہاں میں اضافہ کروں گا کہ پچھلے کچھ سالوں سے برازیل اور ارجنٹینا کے درمیان ایٹمی اسلحہ کی وہی دوڑ جاری تھی جو آج انڈیا اور پاکستان میں دکھائی دے رہی ہے۔ مگر اس کے برے اقتصادی نتائج کو دیکھ کر دونوں ملکوں کے سنجیدہ لوگ تڑپ اٹھے۔ دونوں نے آپس میں گفت شنید شروع کر دی یہاں تک کہ 1997 میں دونوں ملکوں میں ایک مشترکہ فیصلہ کے ذریعہ ایٹمی اسلحہ کی تیاری مکمل طور پر بند کر دی گئی اور اپنے وسائل کو پوری طرح اقتصادی ترقی کی طرف موڑ دیا گیا۔ برازیل اور ارجنٹینا کا یہ فیصلہ بلاشبہ نہایت درست ہے۔ انڈیا اور پاکستان دونوں کو اسی فیصلہ کی پیروی کرنا چاہیے۔ ایٹمی ہتھیاروں کا راستہ بلاشبہ دونوں کے لئے تباہ کن ہے، خواہ یہ ہتھیار استعمال ہوں یا استعمال نہ ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues