No defence is higher then education
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۷
۲۰ویں صدی کے نصف اول کا زمانہ برصغیر ہند کے لئے نازک زمانہ تھا۔ اس زمانہ کے لوگ ایک قسم کے رومانی تصورات میں جی رہے تھے۔ وہ ذہنی طور پر اس کے لئے تیار تھے کہ کوئی شخص خوبصورت نظریہ پیش کرے تو وہ دوڑ کر اسے قبول کرلیں۔ اس زمانہ کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں مختلف قسم کے اہل فکر اٹھے۔ انھی میں سے ایک گروہ وہ تھا جو نظریاتی انتہا پسندی میں مبتلا تھا اور طلسماتی الفاظ کے ذریعہ اپنی قوم کو اس کی طرف بلا رہا تھا۔ ان میں سے ایک کو میں ہندوانتہا پسند اور دوسرے کو مسلم انتہا پسند کا نام دونگا۔ چونکہ اس وقت دونوں فرقوں میں رومانی جوش خروش پایا جارہا تھا۔ اس لئے جوانوں کی بڑی تعداد دونوں طرف اکٹھا ہو گئی۔ اس طرح تقریباً ایک ہی زمانہ میں دو مختلف گروہ وجود میں آئے۔ ایک ہندو انتہا پسندوں کا گروہ اور دوسرا مسلم انتہا پسندوں کا گروہ۔ ۲۰ویں صدی میں برصغیر ہند میں جو تباہ کن حالات پیش آئے اس کے سب سے بڑے ذمہ دار یہی دونوں انتہا پسند گروہ ہیں۔
نظریاتی انتہا پسندی ایک قسم کا جنون ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ تاریخ کو اپنے خود ساختہ نظریات میں ڈھالنے پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ تاریخ کے پہیہ کو الٹی طرف چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں تاریخ کا سفر تو الٹی طرف جاری نہیں ہوتا البتہ ترقی اور تعمیر کے کے امکانات تباہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ہندو انتہا پسند گروہ کے پچھلے پچاس سال کے ریکارڈ کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ انھوں نے اس مدت میں صرف تین بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ اول، ۱۹۴۸ میں مہاتما گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کرنا۔ دوم، ۱۹۹۲ میں ایودھیا کی تاریخی مسجد کو ڈھادینا جب کہ اس کا کیس ابھی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ سوم، ۱۹۹۸ میں پانچ ایٹمی دھماکے کر کے اس پورے علاقے میں ایٹمی ہتھیار کی دوڑ شروع کردینا۔
یہ بات میں نے دہلی کی ایک مجلس میں آر ایس ایس اور اس کی پولیٹیکل ونگ بھارتیہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues