Al-Risala · November 1999 · page 45

No defence is higher then education

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۵

جنتا پارٹی کے بارے میں ان الفاظ میں کی:

مسلم انتہا پسندوں کا ریکارڈ بھی اس معاملہ میں کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ اپنے نظریاتی جنون کے تحت انھوں نے ۱۹۴۷ میں بر صغیر ہند کا بٹوارہ کرایا۔ اور اس پورے علاقہ میں ابدی طور پر نفرت کی فصل اگائی۔ اس کے بعد اسی نظریاتی جنون کے تحت انھوں نے نام نہاد اسلامی جنگ جوئی کا طوفان برپا کیا جس کے نتیجہ میں نہ صرف لیاقت علی خاں (وفات ۱۹۵۱) اور ذوالفقار علی بھٹو (وفات ۱۹۷۹) جیسے بہت سے لوگوں کو قتل کیا گیا بلکہ کشمیر میں اور خود پاکستان میں تشدد کا ایک آتشیں جنگ آگ آیا جس کا بظاہر کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔ اور پھر یہی مسلم انتہا پسند ہیں جنھوں نے وہ حالات پیدا کئے جس کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ انڈیا اور پاکستان ہلاکت خیز انجام کے کنارہ کھڑے ہو گئے۔

انتہا پسندی کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ سمجھوتہ اور مصالحت (conciliation) کو نہیں جانتی ایسے لوگ صرف ایک بات کو جانتے ہیں۔ اور وہ ہے ساری دنیا کو اپنے خیالات کے سانچے میں ڈھالنا۔ یہی وجہ ہے کہ نظریاتی انتہا پسندی ہمیشہ نفرت اور تشدد تک پہنچتی ہے۔ بد قسمتی سے بر صغیر ہند میں ہند و انتہا پسندی اور مسلم انتہا پسندی دونوں نے ہمارے سماج میں یہی غیر مطلوب فصل اگائی ہے۔

کسی لیڈر کی سب سے زیادہ تباہ کن چیز نظریاتی جنون ہے۔ لیڈر کے دماغ میں جب ایک نظریہ بس جائے تو بقیہ تمام چیزیں اس کے لئے ثانوی بن جاتی ہیں۔ وہ اپنے خود ساختہ نظریہ کو قائم کرنے کے لئے تمام دوسری چیزوں کو بلڈوز کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اخلاق اور انسانیت جیسی اعلیٰ قدروں کو بھی۔ اسٹالن نے اپنے اسی نظریاتی جنون کی بنا پر ۲۵ بلین انسانوں کو ہلاک کر دیا۔ ہٹلر نے اپنے اسی نظریاتی جنون کی بنا پر تاریخ کی وہ ہولناک جنگ چھیڑ دی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page