No defence is higher then education
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۶
جس کو دوسری عالمی جنگ کہا جاتا ہے، وغیرہ۔
بدقسمتی سے برصغیر ہند بھی آزادی کے بعد اس قسم کے نظریاتی جنون کا شکار ہو رہا ہے۔ پاکستان میں وہاں کے نام نہاد اسلام پسندوں نے اپنے نظریاتی جنون کے تحت پاکستان کے تمام بہترین امکانات کو ملیا میٹ کر دیا۔ انڈیا میں پہلے ہمارا ملک نہرو کے سوشلسٹ جنون کا شکار ہوا۔ اب وہ بھا پچا کے ہند تو جنون کا شکار ہو رہا ہے۔ یہ صرف خدا کو معلوم ہے کہ اس قسم کی جنونی سیاست برصغیر ہند میں مزید کب تک جاری رہے گی۔
ہر سماج میں ایسے افراد ہو سکتے ہیں جو اپنے نظریہ کے حق میں مجنونانہ یقین رکھتے ہوں ۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سماج میں ہمیشہ مختلف سوچ اور مختلف نظریہ رکھنے والے پائے جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ مختلف اور متضاد ذہن رکھنے والوں کے درمیان حکومتی نظام کس طرح بنایا جائے یہ ضروری ہے کہ ہمارے پاس اس مقصد کے لئے پرامن اور قابل عمل فارمولا موجود ہو۔ بصورت دیگر ، ہر سماج ابدی طور پر تشدد کا سماج بنارہے گا۔ یہ فارمولا دریافت ہو چکا ہے اور اس فارمولے کا نام ڈیموکریسی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سماج کے مختلف گروہ اس پر راضی ہو جائیں کہ حکومت سازی کا معاملہ الیکشن پر اس کے حوالے کر دیا جائے۔ ہر پانچ سال پر آزادانہ اور منصفانہ (free and fair) الیکشن منعقد کیا جائے اس الیکشن میں جو گروہ بھی جائز طور پر اکثریت لائے اس کو محدود مدت کے لئے حکومت (صحیح تر لفظ میں ، ایڈمنسٹریشن) کا کام چلانے کا موقع دیا جائے۔ یہ فاتح گروہ دل سے راضی رہے کہ اگلے الیکشن میں اگر وہ ہار جاتا ہے تو وہ اسی طرح معتدل طور پر اپنی ہار کو قبول کر لے گا جس طرح اس سے پہلے اس نے اپنی جیت کو قبول کیا تھا۔
اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو اپنے دماغوں میں کوئی اصلاحی نظریہ رکھتے ہیں مگر عوامی رائے بر وقت ان کے ساتھ نہیں ہے ایسے لوگوں کے لئے واحد صحیح اور قابل عمل بات یہ ہے کہ وہ انتظار کی ۔ پالیسی اختیار کریں۔ یعنی وہ جائز حدود میں اپنے نظریہ کی پر امن تبلیغ کریں وہ لوگوں کو ایجو کیٹ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues