No defence is higher then education
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۷
وقت ان کے ساتھ نہیں ہے ایسے لوگوں کے لئے واحد صحیح اور قابلِ عمل بات یہ ہے کہ وہ انتظار کی پالیسی اختیار کریں۔ یعنی وہ جائز حدود میں اپنے نظریہ کی پر امن تبلیغ کریں وہ لوگوں کو ایجوکیٹ کر کے ان کے ذہن کو اپنے موافق بنانے کی کوشش کریں۔ اس عمل میں وہ نہ کوئی متشددانہ طریقہ اختیار کریں اور نہ غیر اخلاقی طریقہ۔ وہ اسی طرح پرچار کے دائرہ میں اپنی تعمیری مہم جاری رکھیں ۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجائے جب کہ خود انتخابی عمل ان کے حق میں فیصلہ دے دے۔ ۱۹۴۷ میں جب ایک طرف انڈیا اور دوسری طرف پاکستان بنا تو اول دن ہی سے دونوں میں حریفانہ تعلق قائم ہو گیا۔ حریفانہ تعلق ہونا کوئی بری چیز نہیں۔ وہ ترقی کا زینہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی ترقی کا راز روس کی صورت میں اس کے ایک حریف کا وجود میں آنا تھا۔ چنانچہ جب 1991 میں سوویت یونین ٹوٹ گیا تو امریکی ماہرین یہ کہنے لگے کہ ہمیں اب کوئی دوسرا حریف تلاش کرنا چاہیے ورنہ ہمارے یہاں ترقی کا عمل رک جائے گا۔
واقعہ یہ ہے کہ حریفانہ کشاکش اپنی ذات میں کوئی بری چیز نہیں۔ یہ خود فطرت کا بنایا ہوا کورس ہے۔ فطرت نے انسانی ترقی کے لئے یہی کورس مقرر کیا ہے کہ لوگوں میں مقابلے ہوں اور ان مقابلوں کے دوران ہر ایک اپنے کو اونچا دکھانے کی کوشش کرے اور اس طرح انسانیت کی مجموعی ترقی جاری رہے۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان حریفانہ کشمکش پیش آئی وہ اپنی ذات میں اس قسم کی ایک چیز تھی۔ مگر یہ حریفانہ کشمکش دونوں ہی ملکوں کے لئے تباہی کا ذریعہ بن گئی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے یہاں اس حریفانہ کشمکش نے منفی رخ اختیار کر لیا ہمارے یہاں یہ حریفانہ کشاکش منفی کشاکش بن گئی وہ مثبت رخ اختیار نہ کر سکی۔
ابتدا میں دونوں ملکوں کا میڈیا ایک دوسرے کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے لئے وقف ہو گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues