No defence is higher then education
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۸
تجربہ ہوتا ہے۔ وہ انڈیا واپس آکر کہتا ہے کہ پاکستان کے لوگ تو ہم سے انسانیت اور پیار کے ساتھ ملتے ہیں پھر دونوں ملکوں میں قومی سطح پر دشمنی کیوں۔
یہی معاملہ ان پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ پیش آتا ہے جو پاکستان سے انڈیا آتے ہیں۔ اور یہاں کے ہندوؤں سے انفرادی طور پر ملتے ہیں وہ بھی پاکستان واپس جا کر یہی بات کہتے ہیں کہ ۔ انڈیا کا ہندو تو ہم سے انتہائی پیار کے ساتھ ملا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ قومی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل دشمنی قائم ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں جب ہندو اور مسلمان آپس میں ملتے ہیں تو یہ ایک انسان کی دوسرے انسان سے ملاقات ہوتی ہے۔ جب بھی ایک انسان دوسرے انسان سے انفرادی طور پر ملے تو یہ ملاقات فطرت کے دو پیکروں کے درمیان ہوگی، اور جہاں تک فطرت کا سوال ہے وہ ایک ہندو کے اندر بھی وہی ہے جو ایک مسلمان کے اندر ہے۔ مگر قومی تعارف کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انفرادی ملاقات میں دونوں کی رہنمایان کی فطرت ہوتی ہے مگر ایک پاکستانی مسلمان جب ہندوستانی قوم کے بارے میں جاننا چاہے تو وہ اپنی اس واقفیت کو اخبارات کے ذریعہ حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح جب ایک ہندوستانی ہندو پاکستانی قوم سے آگاہ ہونا چاہے تو وہ بھی اخبارات کے ذریعہ یہ آگہی حاصل کرتا ہے۔ اور جب کہ معلوم ہے اخبارات صرف نفرت و عداوت کے باتیں چھاپتے ہیں وہ حریف قوم کو ایک قابل نفرت دشمن کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔
انفرادی اور قومی تصویر کا یہ فرق اس مطالعہ کے فرق کا نتیجہ ہے۔ اگر دونوں ملکوں کے اخبارات میڈیا کو ہٹا دیا جائے اور دونوں ملکوں کے لوگ ایک دوسرے کے بارے میں قومی تعارف بھی اس طرح براہ راست حاصل کریں جس طرح وہ انفرادی تعارف براہ راست حاصل کرتے ہیں تو یہ تضاد ختم ہو جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues