Al-Risala · November 1999 · page 49

No defence is higher then education

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۹

ہیں تو یہ تضاد ختم ہو جائے گا۔

قرآن کی سورہ نمبر ۱۰ میں فطرت کا ایک قانون ان الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ پھر ہم نے ان کے بعد تم کو زمین میں با اقتدار بنایا تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو (یونس ۱۴) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین میں جب کسی فرد یا گروہ کو سیاسی اقتدار ملتا ہے تو وہ اس کا ذاتی حق نہیں ہوتا۔ زمین خدا کی ہے اور وہی جس کو چاہتا ہے اس کو یہاں اقتدار عطا کرتا ہے، یہ اقتدار ہر ایک کے لئے صرف محدود مدت کے لئے ہوتا ہے، اور اس کا مقصد یہ ہوتا کہ سیاسی مواقع دے کر اس کو جانچا جائے کہ اس نے اپنے اختیار کو کس طرح استعمال کیا۔ پھر اس کی اس کارکردگی کی بنیاد پر آخرت میں اس کے لئے انعام یا سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے بر صغیر ہند کو دیکھئے۔ پانچ سو سال پہلے یہاں مختلف راجاؤں کی حکومت تھی۔ اس کے بعد مغلوں کا سیاسی دور آیا جو انیسویں صدی کے وسط تک جاری رہا۔ اس کے بعد انگریزوں کو اس ملک میں سیاسی اقتدار ملا۔ یہ اقتدار ۱۹۴۷ میں ختم ہو گیا۔ اس کے بعد ملک کے دو حصے ہو گئے۔ ایک حصے میں ہندو اکثریت کو سیاسی بالاتری حاصل ہوئی اور دوسرے حصے میں مسلم اکثریت کو سیاسی بالاتری کی حیثیت حاصل ہوئی۔

پچھلے تمام سیاسی دور صرف وقتی تھے۔ ان میں سے کوئی بھی مستقل نہ تھا اسی طرح موجودہ سیاسی دور بھی صرف وقتی ہے۔ دونوں میں سے کسی فرقہ کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کو مستقل طور پر زمین کے اس حصے کا سیاسی الاٹ مینٹ مل گیا ہے۔ دونوں ہی گروہ، قرآن کے مطابق مالک کائنات کی براہ راست نگرانی میں ہیں۔ وہ جب تک چاہے گا ان کا اقتدار رہے گا، اور جب وہ چاہے گا دونوں کا اقتدار ختم کر کے کسی اور گروہ کو یہ سیاسی مواقع دے دے گا۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو ہندو اور مسلمان دونوں ہی گویا سیاسی امتحان ہال میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ دونوں ہی کو ایک مشترک پرچہ حل کرنا ہے، وہ پرچہ کیا ہے، وہ پرچہ یہ ہے کہ دونوں ہی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page