Al-Risala · December 1999 · page 15

توحید کی حقیقت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۵

توحید کی حقیقت

حضرت آدم کے بعد غالباً سب سے پہلے پیغمبر حضرت نوح ہیں۔ حضرت آدم کی امت میں بگاڑ آگیا تو اس کو دوبارہ خالص توحید کا پیغام دینے کے لئے حضرت نوح بھیجے گئے۔ حضرت نوح نے قوم کی گمراہیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے جو کچھ کہا، اس میں ایک بات یہ تھی کہ تم لوگوں کو کیا ہوا کہ تم اللہ کی عظمت کے معتقد نہیں ہو (مالکم لا ترجون لله وقارا) نوح ۱۳ یعنی تم اللہ کی بڑائی کا اعتقاد کیوں نہیں رکھتے۔ اور اللہ کے عظمت و جلال سے ڈرتے کیوں نہیں۔ حضرت نوح کی قوم اللہ کو مانتی تھی۔ مگر تعظیم و توقیر کا جو درجہ اللہ کو دینا چاہئے، وہ درجہ انھوں نے اپنے قومی اکابر کو دے رکھا تھا۔ ان قومی اکابر کا نام قرآن میں ود، سواع، یعوق اور نسر بتایا گیا ہے (نوح ۲۳) ایک روایت کے مطابق، یہ لوگ حضرت آدم کی ابتدائی نسل سے تعلق رکھتے تھے (تفسیر قرطبی)

قوم نوح کی گمراہی یہ تھی کہ وہ اللہ کا اقرار کرتی تھی مگر اسی کے ساتھ وہ اکابر پرستی کی بیماری میں مبتلا تھی۔ وہ وجود الہی کی منکر نہ تھی۔ مگر اپنے دل و دماغ میں اس نے جن کو سب سے اعلیٰ مقام دے رکھا تھا وہ اس کے مزعومہ اکابر تھے نہ کہ ذات خداوند ی۔ اس کے قلب و دماغ پر اللہ کی عظمت کا احساس اس طرح چھایا ہوا نہ تھا جس طرح رب العالمین کو ماننے والے ایک انسان پر فی الواقع چھایا ہوا ہونا چاہئے۔ اللہ کو صرف ماننا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ آدمی اس کو اپنی روح اور اپنی نفسیات میں سب سے اونچا مقام دئے ہوئے ہو۔ جو آدمی اللہ کی عظمت میں جی رہا ہو وہ خدا پرست ہے ، اور جس آدمی کا دل اللہ کے سوا کسی اور کی عظمت میں ڈوبا ہوا ہو وہ غیر خدا پرست ہے۔ یہ غیر خدائی معبود انسانی اکابر بھی ہو سکتے ہیں اور دوسری مزعومہ ہستیاں بھی۔ مشرک انسان خدا کا منکر نہیں ہوتا، مشرک انسان کی گمراہی یہ ہے کہ خدا کے لئے اس کے پاس صرف لفظی اظہار ہوتا ہے اور دوسری ہستیوں کے لئے قلبی کیفیات ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page