مسوری کا سفر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۱
مسوری کا سفر
۲۵ جولائی ۱۹۹۹ء کو مسوری میں ایک خصوصی پروگرام انڑ فیتھ ڈائیلاگ (Inter-faith Dialogue) کے نام سے ہوا۔ اس کا انتظام لال بہادر شاستری نیشنل اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس موقع پر مختلف مذاہب کے اہل علم کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ مجھے اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے بلایا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں مسوری کا سفر ہوا۔ ۲۵ جولائی ۱۹۹۹ء کی صبح نور روانگی ہوئی۔ مجھ کو شتابدی ایکسپریس کے ذریعہ دہلی سے دہرہ دون پہنچنا تھا۔ دہرہ دون سے بذریعہ کار مسوری کا سفر کرنا تھا۔ ڈاکٹر ڈے اور ڈاکٹر سمستانی وغیرہ کل سات آدمی دہلی سے اس سیمنار میں جارہے تھے۔
پہلا تجربہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہوا۔ یہاں ہماری ٹرین (شتابدی ایکسپریس) پلیٹ فارم نمبر ۱۲ سے روانہ ہونے والی تھی۔ ہماری گاڑی ٹھیک پلیٹ فارم کے گیٹ تک پہنچ گئی۔ معلوم ہوا کہ یہاں یہ نیا انتظام کیا گیا ہے۔ کار کے ذریعہ اسٹیشن آنے والے لوگ سیدھے اپنی کار کو پلیٹ فارم تک لے جاسکتے ہیں۔ یہاں آنے والی کاروں کے لئے خصوصی پاس ۲۵ روپیہ کا ہوتا ہے۔
نئے ہندوستان میں اس طرح دھیرے دھیرے عین وہی چیز ہوتی جارہی ہے جس کا الزام انگریزوں کو دیا جاتا تھا۔ یعنی ایلیٹ کلاس (Elite Class) کے لئے ہر جگہ خصوصی انتظام ۔ یہ فرق پہلے انگریز اور ہندوستانی کے درمیان تھا، اب وہ خود ہندوستانی اور ہندوستانی کے درمیان ہے۔ تحریک آزادی کے بڑے بڑے لیڈر جو ۱۹۷۲ء سے پہلے انگریزوں کو یہ الزام دیتے تھے کہ انھوں نے ملک میں اپنے لئے خصوصی رعائیتیں لے رکھی ہیں، وہ مستقبل کے حالات سے کتنا زیادہ بے خبر تھے۔
ٹرین دہلی سے آگے بڑھ کر پنجاب میں داخل ہوئی تو ریلوے لائن کے دونوں طرف
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues