مسوری کا سفر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۲
ہرے بھرے میدانوں کا لامتناہی سلسلہ تھا۔ یہ سر سبز منظر دہرہ دون تک کے پورے سفر کے دوران جاری رہا۔ سر سبز درخت زمین کا حسن ہیں۔ زمین پر اگر سر سبزی نہ ہو تو زمین بالکل ایسی ہو جائے جیسی کوئی گنجے سر کا آدمی۔
میں اپنی پوری زندگی سر سبز مناظر کا دلدادہ رہا ہوں۔ اس قسم کا کوئی منظر دیکھ کر میں اس میں اس طرح کھو جاتا ہوں کہ دوسری کوئی چیز یاد ہی نہیں رہتی۔ سر سبز مناظر کو دیکھ کر ایک ایسی بے پناہ روحانی مسرت ہوتی ہے جس کا میں نے کسی اور چیز میں تجربہ نہیں کیا۔ یہ سر سبز مناظر زمین کے سوا وسیع کائنات میں کسی بھی دوسرے مقام پر موجود نہیں۔ میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے کہ صرف زمین کی سطح کے اوپر استثنائی طور پر یہ سر سبز مناظر پیدا کئے گئے ہیں۔ وسیع کائنات میں کسی دوسرے مقام پر اس قسم کا منظر موجود نہیں۔
یہ سوچتے ہوئے ایک عجیب خیال دل میں پیدا ہوا۔ میں نے سوچا کہ خالق کو یہ منظور تھا کہ جب وہ اس قسم کا حیرت انگیز حسن پیدا کرے تو وہاں ایک انسان بھی موجود ہو جو اس کو دیکھے تو اس کے اندر ایسا پر ارتعاش جذبہ پیدا ہو کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئیں اور وہ کہہ پڑے: ربنا ما خلقت هذا باطلاً ، سبحانك فقنا عذاب النار . ہماری بوگی (چتر کار) میں اتفاق سے انگریزی اسکول کی لڑکیاں سفر کر رہی تھیں۔ وہ مسلسل زور زور سے بول رہی تھیں۔ یہاں تک کہ ان کی آواز ٹرین کی آواز پر غالب آگئی۔ وہ سب انگریزی بول رہی تھیں۔ بظاہر وہ گیارہویں یا بارہویں کلاس کی لڑکیاں تھیں۔ ان کا شور سن کر مجھے کسی کا قول یاد آیا کہ : سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ وہ لوگ ہیں جو کہ تعلیم یافتہ ہیں۔ The most uneducated people are those who are educated people. تعلیم بلا شبہ بے حد اہم ہے۔ مگر صرف فارمل ایجوکیشن کافی نہیں۔ اس کے ساتھ انفارمل ایجوکیشن بھی بے حد ضروری ہے جس کا مقصد شعور کی تعمیر اور کیر کٹر بلڈنگ ہو ۔ اس کے بغیر صرف فارمل ایجوکیشن کافی نہیں ہو سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues