Al-Risala · December 1999 · page 23

مسوری کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۳

اس کی ایک مثال تبلیغی جماعت ہے۔ سرسید نے تعلیم کے ساتھ ہر ہاسٹل میں نماز خصوصی انتظام کیا مگر اس انتظام سے بہت کم لوگ نمازی بن سکے۔ لیکن تبلیغی جماعت کی خار کو ششوں کے نتیجہ میں لاکھوں لوگ نمازی بن گئے حتی کہ خود کالجوں اور یونیورسٹیوں کے لو بھی۔

لڑکیوں کا شور جب ختم نہیں ہوا تو ایک صاحب سے رہا نہیں گیا۔ انھوں نے کھڑے ہو کر بلند آواز سے لڑکیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا:

This coach does not belong to you alone. مگر اس کے باوجود لڑکیوں کا شور ختم نہیں ہوا۔

میں نے مغربی ملکوں میں بار بار سفر کیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہاں کے لڑکے اور لڑکیاں بہت دھیمی آواز میں بولتے ہیں۔ ان لوگوں کو میں نے کبھی شور کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ وہ لوگ آزادی کے ساتھ اپنی سماجی ذمہ داریوں کو بھی جانتے ہیں جب کہ ہمارے نوجوانوں کا حال یہ ہے کہ انھیں اپنی آزادی کی خبر تو ضرورت سے زیادہ ہے مگر اپنی سماجی ذمہ داریوں کی خبر انھیں بقدر ضرورت بھی نہیں۔

تاہم ہمارے ساتھی ڈاکٹر ایس کے ڈے (ڈائرکٹر گاندھی میں فاؤنڈیشن) کا رول ابھی باقی تھا۔ وہ ظرافت کے انداز میں بات کرنے کے ماہر ہیں۔ ایک بار ہماری مجلس تھی۔ جو دیر تک قائم رہی۔ ڈاکٹر ڈے نے اپنی شگفتہ باتوں سے لوگوں کو احساس نہیں ہونے دیا کہ ان پر دو گھنٹہ کا وقت گزر چکا ہے۔ جب میں مجلس سے اٹھنے لگا تو ایک صاحب نے کہا کہ شاید آپ بور ہو گئے۔ میں نے جواب دیا:

Where there is Dr. Day, there is no question of boredom. چنانچہ ڈاکٹر ڈے نے اپنی ظرافت کی تدبیر سے ٹرین میں لڑکیوں کے شور کے مسئلہ کو حل کیا۔ وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر لڑکیوں کے پاس گئے اور نرمی کے ساتھ ان سے کہا: اس سے اچھا تو یہ تھا کہ آپ نے ہمیں ایک گانا سنایا ہو تا۔ ڈاکٹر ڈے کا یہ جملہ سن کر لڑکیاں شرمندہ ہو گئیں اور

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page