Al-Risala · December 1999 · page 24

مسوری کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۴

اس کے بعد ان کا شور کرنا بند ہو گیا۔

ہمارے قافلہ میں ایک سینئر پروفیسر تھے جن کا نام ڈاکٹر ایم ایچ سمانی تھا۔ ان کا سبجیکٹ بدھزم رہا ہے۔ انھوں نے اس پر ریسرچ کی ہے۔ وہ پالی اور سنسکرت زبان بھی جانتے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ کیا گوتم بدھ کی تعلیمات اور چینل زبان میں موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ اب بدھزم کا جو لٹریچر ہمارے پاس موجود ہے وہ پالی اور سنسکرت میں ہے جو کہ سب کا سب ترجمہ ہے۔ میں نے پوچھا کہ گوتم بدھ کے اپنے بولے ہوئے الفاظ کا کوئی ریکارڈ کیا آج بھی پایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ کچھ مثالیں دی جاتی ہیں مگر وہ تاریخی طور پر مستند نہیں ہیں۔ اس قسم کا سوال اگر پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں پوچھا جائے تو کوئی بھی مسلمان یہ کہے گا کہ ہاں، آپ کی تعلیمات آج بھی اسی ابتدائی زبان میں موجود ہیں۔ آپ کے بولے ہوئے الفاظ آج بھی وہی کے وہی حدیث کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ کتنا زیادہ فرق ہے اسلام میں اور دوسرے مذہبوں میں۔

راستہ میں ایک عیسائی پروفیسر ڈاکٹر پی کے جان سے گفتگو ہوئی وہ دہلی میں رہتے ہیں اور مسوری کے سیمنار میں شرکت کے لئے جا رہے تھے۔ وہ کرسچین تھیالوجی پڑھاتے ہیں۔ ان سے مسیحی عقائد پر دیر تک باتیں ہوئیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ہم مسیح کو پرافت اور سن آف گاڈ دونوں مانتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا سن آف گاڈ اسی سنس میں جس کہ ہر آدمی اپنے باپ کا بیٹا ہو تا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے کہا کہ پھر مسیح کا تو ایک فزیکل وجود تھا۔ آپ کے عقیدہ کے مطابق ان کو پھانسی بھی دی جا سکتی تھی۔ پھر کیا خدا بھی اسی طرح فزیکل وجود ہے۔ جس پر موت و حیات کے قوانین وارد ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں ۔ خدا ایک غیر فزیکل وجود ہے۔ میں نے کہا کہ بیٹا تو ہمیشہ اپنے باپ کا جزء ہوتا ہے۔ پھر ایسا کیوں کر ممکن ہے کہ خدا تو غیر فزیکل وجود ہو اور اس کا بیٹا فزیکل وجود کی شکل میں ظاہر ہو۔ اس کا وہ کوئی واضح جواب نہ دے سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page