Al-Risala · December 1999 · page 25

مسوری کا سفر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۵

اسی طرح میں نے پوچھا کہ تثلیث (Trinity) کا عقیدہ جو موجودہ مسیحیت کا بنیادی عقیدہ ہے وہ انجیل مقدس میں کہاں ہے۔ لمبی گفتگو کے بعد انھوں نے اقرار کیا کہ تثلیث کا عقیدہ اپنی موجودہ شکل میں دوسری صدی عیسوی میں وجود میں آیا۔

ڈاکٹر ڈے بھی اس سفر میں چل رہے ہیں۔ وہ ایک معمر آدمی ہیں۔ اور تقسیم سے پہلے کی ہندوستانی سیاست سے کافی واقف ہیں۔ ایک گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ مسٹر محمد علی جناح کو میں قریب سے جانتا ہوں ۔ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ ایک پکے سیکولر آدمی تھے۔ میں نے کہا کہ پھر کیسے وہ مسلمانوں کے سب سے بڑے لیڈر بن گئے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں میں کوئی دوسرا آدمی تھا ہی نہیں۔ میں نے مولانا ابو الکلام آزاد کا نام لیا۔ انھوں نے کہا کہ میں مولانا آزاد کو بھی قریب سے جانتا ہوں۔ ان کا کیس لینگوئج بیریئر (Language barrier) کا کیس تھا۔ ان کی کمی یہ تھی کہ وہ جناح صاحب کی طرح انگریزی نہیں بول سکتے تھے۔ میں نے سوچا کہ مولانا آزاد نہایت ذہین تھے۔ ان کا حافظہ بھی بہت اچھا تھا۔ وہ بہت آسانی سے انگریزی بولنے کی مشق پیدا کر سکتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ ان کے جیسے آدمی کے لئے ایک سال سے بھی کم محنت کافی تھی۔ انھوں نے تقسیم کے بعد جامع مسجد دلی میں جو تقریر کی تھی اس میں انھوں نے مسلمانوں سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے چلنا چاہا مگر تم نے مجھے چلنے نہیں دیا۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ شکایت ان کو اپنے آپ سے کرنی چاہئے تھی۔ اگر وہ محنت کر کے جناح اور نہرو کی طرح انگریزی اسپیکر بن جاتے تو مجھے یقین ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے بلا شرکت غیرے لیڈر بن جاتے۔ اس کے بعد دوسری قیادتیں اپنے آپ چھوٹی ہو جاتیں۔

دہہرہ دون ریلوے اسٹیشن سے روانگی ہوئی تو تھوڑی دور آگے بڑھ کر پہاڑ کی چڑھائی شروع ہو گئی۔ ہماری گاڑی گھومتی ہوئی سڑکوں پر چڑھتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ پہاڑی راستہ طے کرنے کے لئے اس قسم کی چکر دار سڑکیں بنانے کا کام انگریزوں نے کیا۔ اس طرح انھوں نے میدانی لوگوں کے لئے پہاڑ پر چڑھنا آسان بنا دیا۔ انہیں سڑکوں کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page