ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۱
بہادرانہ ٹکراؤ کے باوجود گورکھا فوج کو انگریزوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔ تا ہم اس کامیابی کے بعد انگریزوں نے گورکھا کو دشمن کے روپ میں دیکھنے سے زیادہ ان کو ان کی غیر معمولی جنگی صلاحیت کے اعتبار سے دیکھا۔ چنانچہ بعد کو انھوں نے گورکھا قبائل سے تعلقات بڑھا کر ان کو اپنی فوج میں شامل کر لیا۔ گور کھار جمنٹ آخر وقت تک انگریز فوج کا اہم حصہ بنی رہی۔ ایک بنگالی پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ وہ رابندر ناتھ ٹیگور کو قریب سے جانتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ٹیگور شانتی نکیتن میں روز آنہ صبح کو سورج کے سامنے بیٹھا کرتے تھے۔ اس وقت ان کے لئے جوس کا ایک گلاس لایا جاتا تھا جس کو وہ روز آنہ پیتے تھے۔ اس وقت اکثر اسٹوڈنٹس وغیرہ ان کے پاس جمع ہو جاتے تھے۔ ان لوگوں کو تعجب ہوتا تھا کہ ٹیگور تنہا جوس پی لیتے ہیں ہم لوگوں کو کبھی آفر نہیں کرتے۔
ایک روز ایک طالب علم نے یہ بات ٹیگور سے کہہ دی کہ نہ آپ اکیلے جوس پی لیتے ہیں اور ہم لوگوں کو کبھی آفر نہیں کرتے۔ ٹیگور نے ایک چمچہ جوس گلاس سے نکالا اور طالب علم سے کہا کہ اس کو چکھو۔ طالب علم نے جب اس کو منہ میں ڈالا تو وہ اتنا کڑوا تھا کہ وہ اس کو پی نہ سکا۔ معلوم ہوا کہ یہ کوئی پھل کا جوس نہیں ہوتا بلکہ کریلے کا جوس ہوتا ہے۔ اس کے بعد لوگ مطمئن ہو گئے۔
کریلا بعض سخت امراض کے لئے بے حد مفید ہے۔ اگر کوئی شخص کچا کریلا روز آنہ کھائے تو اس کو ذیا بیٹس وغیرہ جیسی بیماریاں نہیں ہوں گی۔ حال میں امریکہ کی بعض کمپنیوں نے اسی لئے کریلا اور جامن جیسی کچھ مفید چیزوں کو اپنے لئے پیٹنٹ کر لیا ہے۔
یہاں کی اکیڈمی میں ایک بہت عمدہ لائبریری ہے۔ جس میں نہ صرف اردو زبان کی کافی کتابیں موجود ہیں بلکہ اسلام پر اتنا زیادہ لٹریچر موجود ہے کہ آدمی ان کا مطالعہ کرنے کے اسلام کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں پر سکون ماحول میں بیٹھ کر کتابوں کا مطالعہ کرنے کا مکمل ماحول ہے۔ مزید یہ معلوم ہوا کہ کتابوں کا یہ وسیع ذخیرہ دہہرہ دون کے ایک ہندو
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues