ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۲
مسٹر پٹی کے جین نے اپنے ذاتی کتب خانہ کے لئے جمع کیا تھا۔ انھوں نے اپنی آخری عمر میں اس پورے ذخیرہ کو اکیڈمی کی لائبریری کو بطور عطیہ دے دیا۔
اس لائبریری کو دیکھتے ہوئے خیال آیا کہ کیسا عجیب زمانہ تھا جب اس ملک میں اردو، فارسی، عربی کا اتنا زیادہ رواج تھا کہ غیر مسلم حضرات بھی ان زبانوں کو سیکھتے تھے اور ان زبانوں میں جو لٹریچر ہے ان کا مطالعہ کرتے تھے۔ اس طرح اسلام کے عمومی تعارف کا کام کسی براہ راست دعوتی مہم کے بغیر اپنے آپ جاری تھا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کی وہ قومی تحریکیں بلاشبہہ جرم کی حیثیت رکھتی ہیں جنھوں نے اس فضا کو برہم کر کے اس کی جگہ نفرت اور تشدد کا ماحول قائم کر دیا۔ ایک روز ہم لوگوں کی غیر رسمی میٹنگ تھی۔ اس میں اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائرکٹر کی تین سالہ بچی اپنے بھائی کے ساتھ آگئی۔ اس کا نام یونیکا تھا۔ لوگ اس کی باتوں میں دلچسپی لینے لگے۔ ایک صاحب نے اپنی جیب سے دوثانی نکالی اور اس کو دیتے ہوئے کہا کہ ایک تمہارے لئے ہے اور ایک تمہارے بھائی کے لئے۔ یونیکاثانی لے کر خوش خوش اپنے بھائی کے پاس گئی اور پھر یہ کہتے ہوئے دونوں ثانی خود لے لی کہ بھائی کا دانت خراب ہو جائے گا۔
میں نے سوچا کہ ذاتی انٹرسٹ کے معاملہ میں ہر آدمی کتنا زیادہ ہوشیار ہوتا ہے، حتیٰ کہ چند سال کا ایک چھوٹا بچہ بھی۔ ذاتی انٹرسٹ کا جذبہ بلاشبہہ انسان کے اندر سب سے زیادہ طاقتور جذبہ ہے۔ اگر یہ جذبہ نہ ہو تو دنیا کی تمام سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ جائیں۔ تا ہم وہ ایک آزمائش بھی ہے۔ آدمی اگر ذاتی معاملہ میں کچھ ہو اور دوسروں کے معاملہ میں کچھ اور بن جائے تو آخرت کی عدالت میں اس سے پوچھا جائے گا کہ جب اپنے انٹرسٹ کے معاملہ میں تم اتنا زیادہ ہوشیار تھے تو دوسروں کے انٹرسٹ کے معاملہ میں تم اتنا زیادہ نادان کیوں بن گئے۔
ذاتی انٹرسٹ کا طاقتور جذبہ آدمی کے لئے نہایت مفید چیز ہے مگر اسی کے ساتھ وہ امتحان کا ایک پرچہ بھی ہے۔
مسوری کے اس سیمینار میں پوری کارروائی انگریزی میں ہوئی۔ مجھے ۲۶ جولائی کی دوپہر
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues