ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۳
کو تقریر کرنے کا موقع ملا۔ سبجکٹ کے مطابق میں نے کنورژن اور اسلام کے موضوع پر خطاب کیا۔ میری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ کنورژن کے دو مطلب ہیں۔ ایک ہے کسی دنیوی مقصد کے لئے مذہب بدلنا۔ اس قسم کا کنورژن اسلام میں پسندیدہ نہیں۔ ہجرت کے موقع پر ایک شخص نے مکہ سے مدینہ کی طرف اس لئے ہجرت کی کہ اس کو مدینہ کی ایک خاتون سے نکاح کرنا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عورت سے نکاح کے لئے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی کے لئے تھی جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔
کنورژن کی دوسری قسم جس کو اسلام پسند کرتا ہے وہ سچائی کی دریافت کے ہم معنی ہے۔ جب آدمی اس لئے اپنا مذہب بدلے کہ اس نے اس مذہب میں سچائی کو دریافت کیا ہے تو ایسی حالت میں مذہب کو بدلنا عین فطری چیز ہے۔ اس قسم کا کنورژن سادہ طور پر کنورژن نہیں ہوتا بلکہ وہ انٹلکچول ٹرانسفارمیشن (intellectual transformation) یا ذہنی ارتقاء کے ہم معنی ہوتا ہے۔
اس کے بعد میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ اسلامی تعلیمات کا تعارف کرایا اور یہ بتایا کہ اسلام امن اور رحمت اور اخوت انسانی کا مذہب ہے۔ مسلمان اگر اس کے خلاف کریں تو اس کی ذمہ داری مسلمان پر ہوگی نہ کہ اسلام پر۔ آپ کو چاہئے کہ مسلمانوں کے عمل کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جانچیں ۔ آخر میں سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ لوگوں نے اسلام کے بارے میں کئی سوالات کئے۔ اس کا میں نے جواب دیا۔ لوگوں کے تاثر سے معلوم ہوا کہ وہ ان جوابات پر مطمئن ہوئے۔ یہاں حاضرین سب کے سب ہندو نوجوان تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو IAS کے امتحان میں پاس ہوتے ہیں۔ اس اکیڈمی میں ان کو پروفیشنل ٹریننگ کے لئے مختصر مدت تک کے لئے بلایا جاتا ہے۔
ایک سوال یہ تھا کہ اسلام میں کیوں ایسا مانا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام آخری پیغمبر ہیں۔ ان کے بعد کوئی دوسرا پیغمبر آنے والا نہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ صرف عقیدہ کی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues