Al-Risala · December 1999 · page 35

ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۵

میں نے کہا کہ مسجد کا ملا (مؤذن) جو بانگ یا اذان دیتا ہے اس میں وہ خدا کو نہیں پکار تا۔ خدا کو دعا میں پکارتے ہیں نہ کہ اذان میں۔ اذان میں مسجد کے آس پاس رہنے والے مسلمانوں کو پکارا جاتا ہے۔ چنانچہ اذان میں یہ الفاظ بھی ہوتے ہیں کہ: حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح۔ Come to the mosque for prayer. اس غلط فہمی کا سبب یہ ہے کہ جس پکار کا خطاب انسان سے تھا اس کو انھوں نے خدا کے ساتھ جوڑ دیا۔ اکثر غلط فہمیوں کا سبب یہی ہوتا ہے۔ لوگ کہیں کی بات کہیں جوڑ دیتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک سیدھی بات کا عجیب و غریب طور پر الٹا مطلب نکال لیتے ہیں۔

ایک سوال یہ تھا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اسلام کو مسلمانوں سے الگ کر کے دیکھو۔ ایسا کیوں کر ممکن ہے۔ ہم تو دونوں کو ایک ہی سمجھتے ہیں۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا یہ اصول استثنائی طور پر صرف اسلام کے لئے نہیں ہو سکتا۔ پھر یہی اصول آپ کو ہر جگہ ماننا پڑے گا۔ مثلاً ہندوستان کا ایک دستور ہے۔ اسی کے ساتھ ہندوستان میں ایک سماج آباد ہے جس کو ہندوستانی سماج کہا جاتا ہے۔ آپ ایسا نہیں کرتے کہ دستور اور سماج دونوں کو ایک سمجھ لیں۔ اس کے برعکس آپ دستور کو معیار کا درجہ دیتے ہیں۔ اور ہندوستانی سماج کو اسی معیار کی روشنی میں جانچتے ہیں۔ اگر آپ دونوں میں فرق نہ کریں تو یہ ہو گا کہ جو ہندوستانی سماج کے لوگ کریں گے وہی دستور اور قانون سمجھا جانے لگے گا۔ آپ ملکی دستور اور ملکی سماج کو الگ الگ کر کے دیکھتے ہیں۔ یہی طریقہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بھی آپ کو اختیار کرنا چاہئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ مسلمانوں کا ماننا یہ ہے کہ اسلام مذہب سب سے زیادہ سچا مذہب ہے۔ اس کے برعکس ہندوؤں کا ماننا یہ ہے کہ ہر مذہب میں سچائی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ ہندوؤں کے فارمولے کو اپنا لیں کیوں کہ اس کے بغیر مختلف مذاہب کے درمیان اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔ میں نے اپنے جواب میں کہا کہ مختلف مذاہب کا امتزاج (amalgamation) اتحاد کا فارمولا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف فطرت میں شامل ہے۔ اس لئے وہ کسی حال میں ختم نہیں ہو سکتا۔ یہی

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page