ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۶
وجہ ہے کہ ہر مذہب میں خود اس کے اندر طرح طرح کے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس لئے اگر بالفرض آپ تمام مذہبوں کو ملا کر ایک مذہب بنا دیں تب بھی اختلاف باقی رہے گا۔ اصل یہ ہے کہ مذہبی اتحاد کا صحیح فارمولا باہمی اعتراف (mutual recognition) نہیں ہے بلکہ اس کا صرف ایک فارمولا ہے اور وہ باہمی احترام (mutual respect) ہے۔ اسلام نے اسی باہمی احترام کے فارمولے پر زور دیا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ جس ڈھنگ سے اسلام کو پیش کرتے ہیں اس سے ہم کو اختلاف نہیں مگر دوسرے کئی لوگ اسی اسلام کو دوسرے ڈھنگ سے پیش کرتے ہیں پھر ہم کس کی بات کو سچا سمجھیں۔ میں نے کہا کہ آپ یہ نہ دیکھیں کہ میں نے کیا کہا اور دوسرے نے کیا کہا۔ بلکہ یہ دیکھئے کہ اسلام کی مقدس کتاب قرآن میں کیا کہا گیا ہے۔ آپ قرآن کا ایک نسخہ لیں اور اپنے ذہن کو خالی رکھ کر اس کو پڑھیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ قرآن کے مسیح کو پالیں گے۔ میری تقریر کا خدا کے فضل سے بہت اچھا اثر ہوا۔ تمام لوگوں نے بہت غور سے سنا اور اس کا اعتراف کیا۔ میں نے اپنی تقریر میں اسلام کی کھلی وضاحت کی تھی۔ لیکن کسی نے بھی منفی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ ہر ایک مطمئن نظر آیا۔ ادارہ کے ڈپٹی ڈائرکٹر سنجیو چوپڑانے کہا: ”آپ کی اسپیچ کے دوران پن ڈراپ سائلنس تھا۔ اس طرح کسی کو بھی نہیں سنا گیا“۔ اسی طرح کے تاثر کا دوسرے لوگوں نے بھی اظہار کیا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ میں آپ کے اسلامک سنٹر میں آؤں گا۔ کئی لوگوں نے اسلام کے مطالعہ کی خواہش ظاہر کی اور قرآن کا ترجمہ طلب کیا۔ اس ادارہ کے موجودہ ڈائر کٹر مسٹر سنجیو چوپڑا ہیں۔ یہ ایک مرکزی ادارہ ہے جو IAS اور IPS میں پاس شدہ نوجوانوں اور افسران کی پروفیشنل ٹریننگ کے لئے 1959ء میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کی عمارت نہایت خوبصورت انداز میں تعمیر کی گئی ہیں۔ اور چاروں طرف کے سرسبز ماحول نے اس کو اور بھی پر کشش بنا دیا ہے۔
خطاب کے وقت وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ یہ سب کے سب وہ لوگ تھے جو آئی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues