Al-Risala · December 1999 · page 37

ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۷

اے ایس کا امتحان پاس کر چکے ہیں اور اب جلد ہی کوئی بڑا انتظامی عہدہ سنبھالنے والے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو عملاً کلکٹریا کمشنر کے عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ اور یہاں وقتی طور پر بطور استاد بلائے گئے تھے۔ یہ میرے لئے ایک بڑا خو شگوار تجربہ تھا کہ مجھ کو ایسے ذمہ دار حضرات کے سامنے خطاب کرنے کا موقع ملا۔ پروگرام کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے اسلام کی نسبت سے جو باتیں کہیں وہ بہت قیمتی تھیں کیوں کہ اس سے لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں۔ اور اگر آپ اعلیٰ انتظامی عہدیداروں کی غلط فہمیاں دور کر دیں تو کتنے مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔

یہ ”انٹر فیتھ ڈائیلاگ “ اکیڈمی کے وسیع ہال میں ہوا۔ سامعین تقریبا سب کے سب ہندو تھے۔ میری تقر ریر کے بعد کئی لوگوں نے کہا کہ آپ کی تقر ریر سن کر ہمارے اندر یہ جذ بہ ابھرا ہے کہ ہم اسلام کا مطالعہ اور یجنل سورس سے کریں۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو خاتون مادھوری سستم سوندھی نے واپسی کے بعد اپنے خط مورخہ ۱۲ اگست ۱۹۹۹ میں لکھا ہے کہ آپ کی تقریر سننے کے بعد میں نے قرآن کا مطالعہ شروع کر دیا ہے :

I have begun to read the Quran with some attention after listening to your speech. ۲۵ جولائی کی شام کو مسوری سے واپسی ہوئی، مسوری میں یہ بارش کا زمانہ تھا لیکن اللہ کے فضل سے پورے دوران قیام میں موسم بہت اچھا رہا۔ مسوری سے واپس ہو کر بذریعہ کار ہم لوگ دہرہ دون پہنچے۔ شام کا وقت ہونے کی وجہ سے چاروں طرف کہر پھیل گیا تھا جس نے قدرتی مناظر کو اپنے اندر ڈھک لیا تھا۔

لینن نے لکھا ہے کہ مذہبی اور اخلاقی تصورات ذہن کو کہر آلود کرنے (befogging of the mind) کا سبب بنتے ہیں۔ لینن کی بات مذہب کے بارے میں درست نہیں۔ لیکن بجائے خود یہ بات درست ہے کہ، خالص طور پر موجودہ زمانہ میں، غلط تعبیرات و تشریحات گہرے کہر کی طرح پھیل گئی ہیں کہ لوگ اس سے باہر آکر چیزوں کو ان کے اصل روپ میں دیکھ نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page