Al-Risala · December 1999 · page 45

When pen is lost everything is lost

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۵

سوال

دو سوالات کے جوابات آپ سے مطلوب ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ مولانا روم رڈارون سے پہلے اصول ارتقاء پیش کر چکے ہیں۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ درج ذیل شعر میں نے کہیں پڑھا تھا، شعر یوں ہے:

کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہی اس کا خالق کون ہے، اگر بتا سکیں تو مہربانی ہوگی۔ (احساس آفاتق، ونو با بھاوے نگر، )400070-کرلا جواب یہ صحیح ہے کہ مولانا جلال الدین رومی (وفات ۱۲۷۳ء) کے یہاں حیاتیاتی ارتقاء کا ابتدائی تصور پایا جاتا ہے۔ مثلاً ان کا یہ شعر : از نباتی در حیاتی او فتاد۔ اسی طرح ابن مسکویہ (وفات ۱۰۳۰) نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ مگر یہ ان حضرات کی ذاتی ایجاد نہیں۔ اصل یہ ہے کہ پانچ ہزار سال پہلے یونان کے بعض فلسفیوں نے حیاتیاتی ارتقاء کا تصور اپنی ابتدائی صورت میں پیش کیا تھا۔ جب یونانی کتابوں کے عربی ترجمے ہوئے تو یہ نظریہ مسلمانوں تک پہنچا اسی یونانی تصور کو مولانا روم اور ابن مسکویہ وغیرہ نے دہرایا ہے۔ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے بعد یورپی علماء نے اپنی کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا۔ اس سلسلہ میں ایک درجن سے زیادہ یورپی علماء کے نام لئے جاتے ہیں۔ مثلاً لامارک (وفات ۱۸۲۹) وغیرہ۔ چارلس ڈارون (وفات ۱۸۸۲) کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے حیاتیاتی ارتقاء کے قدیم نظریہ کو پہلی بار مرتب علمی انداز میں پیش کیا۔ اس موضوع پر اس کی کتاب انواع حیات (The Origin of Species) ۱۸۵۹ میں شائع ہوئی۔ تاہم حیاتیاتی ارتقاء یا عضویاتی ارتقاء کا نظریہ قدیم اور جدید دونوں صورتوں میں غیر ثابت شدہ ہے۔ یہ آج بھی صرف ایک قیاسی نظریہ ہے نہ کہ کوئی ثابت شدہ واقعہ۔ مثلاً مختلف ملتی جلتی انواع حیات کو ایک ترتیب میں کھڑا کر کے یہ کہا جاتا ہے کہ ایک سے دوسرا نکلا، دوسرے سے تیسرا نکلا،

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page