Al-Risala · December 1999 · page 46

When pen is lost everything is lost

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۶

تیسرے سے چوتھا نکلا، وغیرہ۔ مگر یہ صرف ایک دعویٰ ہے۔ ان مماثل مظاہر حیات کی دوسری زیادہ قریب تر توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو مستقل اور منفرد نوع حیات مانا جائے۔ آپ نے جو شعر نقل فرمایا ہے اس کے شاعر کا نام تو مجھے معلوم نہیں۔ البتہ وہ مجھ کو پسند آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اقبال کے اس مشہور شعر کے مقابلہ میں وہ بہت زیادہ درست اور با معنی ہے: ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی اقبال کا مذکورہ شعر میرے نزدیک صرف ایک شاعرانہ تخیل ہے، قرآن وحدیث سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کے مقابلہ میں آپ کا نقل کردہ مذکورہ شعر موجودہ صورت حال کی نہایت صحیح ترجمانی ہے۔ موجودہ زمانے میں مختلف مقامات پر نظام مصطفےٰ اور نظام اسلام کے نام پر جو نام نہاد متشددانہ جہاد جاری ہے وہ بلاشبہ اس شعر کا مصداق ہے۔ یہ اسلام کے نام پر ایک ایسا غیر اسلامی فعل ہے جس کی کوئی دوسری مثال چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس موضوع پر الرسالہ میں بار بار لکھا جا چکا ہے۔ یہاں مزید تفصیل کی ضرورت نہیں۔

سوال

عام طور پر مسلمانوں کے اخبارات اور رسائل یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم کیا جاتا ہے اسی لئے وہ اقتصادی ترقی نہیں کرپاتے۔ اگر یہ شکایت صحیح ہے تو مسلمانوں کی اقتصادی ترقی کی صورت کیا ہے۔ (ایک قاری الرسالہ ، دہلی)

جواب

یہ شکایت درست نہیں۔ اس دنیا میں ہر آدمی اور ہر گروہ اپنے کئے کو بھگتتا ہے۔ ایک کا مقدر کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں۔ واقعات بھی اس کی تردید کرتے ہیں۔ مسلمان اس ملک میں مسلسل اقتصادی ترقی کر رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آج ہندوستان کا سب سے زیادہ دولت مند آدمی بنگلور کا ایک مسلمان ہے جس کا نام مسٹر عظیم ہاشم ہے۔ ملاحظہ ہو (ٹائمس آف انڈیا، ۲ جون (۱۹۹۹)

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page