Al-Risala · December 1999 · page 47

When pen is lost everything is lost

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۷

خبر نامہ اسلامی مرکز ۴۳

دور درشن (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۳ اگست ۱۹۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ مسٹر کمار بھولیش انٹرویو تھے۔ یہ انٹرویو اس موضوع پر تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا سیاسی رخ کیا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ سیاسی رخ یا سیاسی موقف کا تعلق اصلا سیاسی لیڈر شپ سے ہے۔ موجودہ مسلمانوں کے مخصوص مزاج کی بنا پر ابھی تک ان کے اندر کوئی صحیح سیاسی لیڈر شپ نہیں ابھری۔ اسی مزاج کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ موجودہ مسلمانوں میں نہ اتحاد راے ہے اور نہ ان کی کوئی ملی صحافت۔ ان چیزوں کی حیثیت سیاسی ہیں کی ہے اور جب تک میں نہ ہو کوئی اگلا کام نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی مواقع کو استعمال کرنے کے لئے اس کے موافق سیاسی بنیاد ضروری ہے۔ یہ انٹرویو ”صبح سویرے“ کے پروگرام کے لئے تھا۔ ہندو کالج (نئی دہلی) کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے ۱۲ اگست ۱۹۹۹ کو اس کے ایک فنکشن میں شرکت کی اور طلبہ کے سامنے ایک تقریر کی۔ تقریر میں انھوں نے بتایا کہ کامیاب زندگی کے اصول کیا ہیں۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ بہت سے سوال کئے گئے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ رولنگ رول ماڈل ضروری نہیں ہے۔ اصل مسئلہ لونگ رول ماڈل کا نہیں ہے بلکہ لونگ اسپہرٹ کا ہے۔ اگر اسپہرٹ زندہ ہو تو آدمی کتابوں سے اور آس پاس کے واقعات سے ہر قسم کے مفید سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کر سکتا ہے۔

انڈین ایکسپریس کے نمائندہ مسٹر آتیش شرما نے ۱۸ اگست ۱۹۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ”مذہب اور میڈیا“ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مذہبی طبقہ کی یہ بات درست نہیں کہ میڈیا ان کی تصویر بگاڑتا ہے۔ میڈیا کا مقصد نہ تصویر بگاڑنا ہے اور نہ تصویر بنانا۔ اس کی تمام تر دلچسپی سنسنی خیز چیزوں سے ہے کیوں کہ ایسی باتوں کو لوگ دلچسپی سے پڑھتے ہیں اور سنتے ہیں۔ ایسی حالت میں اہل مذہب

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page