Al-Risala · December 1999 · page 48

When pen is lost everything is lost

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۸

کو چاہیے کہ وہ خود اپنے آپ کو سنسنی خیز سرگرمیوں سے بچائیں تاکہ میڈیا کو یہ موقع ہی نہ ملے کہ وہ ان کو نمایاں کرے اور پھر اس کے نتیجہ میں مذہب کی تصویر بگڑے۔ ۴۔ ۱۵ اگست ۱۹۹۹ کو بنگلہ دیش کے ایک جرنلسٹ مسٹر شہر یار کبیر نے صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ویڈیو ٹیپ پر ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ان مسلم تحریکوں سے تھا جو اسلام کے نام پر متشددانہ جہاد کر رہی ہیں۔ جو ابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ان تحریکوں کا اسلامی احیاء سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ کچھ خود ساختہ مسلم لیڈروں کی سیاسی شورش ہے جس کو وہ غلط طور پر اسلام کے نام پر جاری کئے ہوئے ہیں۔ ان متشددانہ تحریکوں کا کوئی بھی مثبت نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ یہ تحریکیں صرف مسلمانوں کی تباہی میں اضافہ کرنے والی ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اسلام پسند کہتے ہیں مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف فساد پسند ہیں۔ وہ اسلام کے نام پر زمین میں بگاڑ پیدا کرنے کے مجرم ہیں۔

۵۔ بہت سے غیر مسلم الرسالہ پڑھتے ہیں اور اپنے انداز میں اس کی تعلیمات کی اشاعت کر رہے ہیں۔ مثلاً مکھیڈ (مہاراشٹر) کے مسٹر پرکاش دیپو ار نے دیوالی کے موقع پر گریٹنگ کارڈ بڑی تعداد میں چھپوا کر لوگوں کے پاس بھیجا۔ اس کارڈ میں سورۃ اخلاص کا ترجمہ ہندی اور مراٹھی میں شامل کیا گیا تھا۔

۶۔ مختلف مقامات سے جو خبریں مل رہی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے واضح طور پر یوٹرن (U turn) لیا ہے۔ وہ جذباتیت سے لوٹ کر تیزی سے حقیقت پسندی کی طرف آ رہے ہیں۔ اب اکابر سے لے کر اصاغر تک سب وہی بولی بول رہے ہیں جس کی طرف الرسالہ پچھلے ۲۵ سال سے لوگوں کو متوجہ کر رہا تھا۔ یہ براہِ راست طور پر الرسالہ مشن کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ فالحمد لله على ذلك۔

۷۔ الرسالہ فورم بمبئی کی مختلف دعوتی سرگرمیوں میں سے تازہ واقعہ یہ ہے کہ انھوں نے کئی کتابوں کا مریٹھی زبان میں ترجمہ شائع کیا ہے۔ مثلاً مذہب اور جدید چیلنج، پیغمبر انقلاب،

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page