Al-Risala · February 1999 · page 43

تصویر کا فتنه

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۳

لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے پچاس سال بعد اس بحث کا فائدہ کیا ہے۔ کیا تاریخ کے پہیہ کو الٹا گھمایا جا سکتا ہے (طالب محسن، لاہور)

جواب

پاکستان کے بیشتر لکھنے اور بولنے والے بنگلہ دیش پر اور بنگلہ دیش کی قیادت پر تنقید کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کا مقصد یہ نہیں کہ بنگلہ دیش کے معاملہ میں ”تاریخ کے پہیے کو الٹا گھمایا جائے۔ “ اس قسم کی تنقیدوں کا مقصد صرف اس ذہنیت پر تنقید ہوتا ہے جس نے بنگلہ دیش کو بنوایا۔ اسی طرح پاکستان کے بارے میں میں نے جو کچھ لکھا ہے اس کا مقصد بھی تقسیم اور تفریق کی ذہنیت پر تنقید ہے نہ کہ تاریخی معنوں میں وجودِ پاکستان پر تنقید۔ آج یہ صورت حال ہے کہ دنیا کے جس ملک میں بھی مسلمان اس کے کسی خطہ میں اکثریت رکھتے ہیں وہاں وہ مرکزی لیڈر شپ سے ٹکڑاؤ کر کے اپنا علیحدہ مسلم پاکٹ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ ذہنیت میرے نزدیک اسلامی روح کے سراسر خلاف ہے۔ اسلام پھیلاد کو پسند کرتا ہے نہ کہ سمٹنے کو۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی قوموں کو خدا کے سایہ رحمت میں لایا جائے نہ کہ ان کو غیر قوم قرار دے کر ان سے جدائی اختیار کر لی جائے۔

سوال

مسلمانوں کے اندر باہمی مسلکی جھگڑے کیا اپنی جہالت کی وجہ سے ہیں یا اس کے لئے غیر قوموں کی طرف سے ہوا دی جاتی ہے۔ یعنی یہ صورت حال مسلمانوں کی کسی داخلی کمزوری کا نتیجہ ہے یا وہ اغیار کی سازش کا نتیجہ ہے (عبد الملک المظاہری، حیدر آباد)

جواب

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ تمہارے اوپر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے (الشوریٰ ۳۰) اس کے مطابق ہمیں ہر مصیبت یا افتاد کا سبب خود اپنی کمزوریوں کو

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page