Al-Risala · February 1999 · page 44

تصویر کا فتنه

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۴

سمجھنا چاہئے نہ کہ اغیار کی مخالفانہ کارروائیوں کا نتیجہ۔ یہ دنیا مسابقت کی دنیا ہے، اس لئے یہاں مسلمانوں کے خلاف سازشیں بھی ضرور ہوں گی۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ مگر اس کا حل دوسروں سے لڑنا نہیں ہے بلکہ اس کا حل قرآن کے مطابق ، یہ ہے کہ خود اپنے اندر تقویٰ اور صبر کی طاقت پیدا کی جائے۔ صبر اور تقویٰ ہر سازش کے خلاف یقینی ڈھال ہے (آل عمران ۱۲۰) سوال آپ کی تحریروں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے جیسے کہ آپ شعوری یا لاشعوری طور پر تصوف کے نظریہ وحدت شہود کے قائل ہیں۔ کیا آپ غیر مسلموں کو اسلام کے قریب لانے کے لئے اس نظریہ کی وقتی ضرورت اور مصلحت کے تحت قائل ہیں یا یہ کہ باقاعدہ اسے ایک ابدی نظریہ اور حقیقت سمجھتے ہیں۔ (محمد اورنگ زیب صالح، اوکاڑی، پاکستان)

جواب

وحدت وجود اور وحدت شہود دونوں ہی نظریہ کو میں غلط سمجھتا ہوں۔ میں نے کبھی اپنی تحریروں میں ان کی تائید نہیں کی، نہ وقتی اور نہ مستقل۔ یہ دونوں نظریات لفظی فرق کے باوجود حقیقتًا ایک ہیں۔ وحدت وجود کا مطلب سادہ طور پر یہ ہے کہ تمام موجودات خدا کا جز ہیں، اور وحدت شہود کا مطلب یہ ہے کہ تمام موجودات خدا کا مظہر ہیں۔ ان دونوں میں کوئی حقیقی فرق نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ کائنات کی تمام چیزوں کو خدا نے اپنے حکم سے پیدا کیا ہے۔ خالق الگ ہے اور مخلوق الگ۔ دونوں کے درمیان کوئی وجودی اشتراک نہیں۔

سوال

میں الرسالہ کا قاری ہوں اور آپ جو کام کر رہے ہیں اس کا قدرداں ہوں۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ ہمارے ملک میں زیادہ پڑھے لکھے لوگ نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں رسالہ اور کتاب کے ذریعہ ان لوگوں تک دعوت نہیں پہنچائی جاسکتی۔ ہمیں ایسی کوئی ترکیب عمل میں لانا چاہئے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page