Al-Risala · February 1999 · page 46

تصویر کا فتنه

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۶

ضروری طور پر نزاعی بنا دیتے ہیں۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی محتاط ہو، وہ ایسے لوگوں کی زبان و قلم سے بچ نہیں سکتا۔ مثال کے طور پر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اپنی اعتدال پسندی اور غیر اختلافی روش کے لئے مشہور ہیں۔ مگر ان کے بارے میں بھی متعدد بار اخبار میں اس قسم کی باتیں آتی رہی ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال، ہفت روزہ نئی دنیا (دہلی) کے شمارہ اے۔ ۷ دسمبر ۱۹۹۸ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس میں ایک مسلم رہنما مولانا موصوف کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے کیا مطلب نکالا جائے کہ مولانا علی میاں اندر ہی اندر سازش کر رہے ہیں اور ایسے بیانات دے کر بی جے پی کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ۔۔۔۔ اور یہ کہ مولانا علی میاں اس سازش کو سمجھنے میں ناکام رہے اور مسلمانوں کو غلط مشورہ دے دیا ہے جس کی میں مکمل طور پر مخالفت کرتا ہوں......... مولانا علی میاں کا بیان بی جے پی کے مقصد کو پورا کر دے گا....... میں مولانا علی میاں کی رائے سے بالکل اتفاق نہیں کرتا ہوں کیونکہ اس سے وشو ہندو پریشد اور بی جے پی کی مسلمانوں کو تعلیم سے دور کرنے کی سازش کامیاب ہو جائیگی ....... میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ انھوں نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنالی ہے جو مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگی (صفحہ ۵) اسی صورت حال کے بارے میں ایک عربی شاعر نے کہا تھا۔ قبل ان الاله ذوولد قيل ان الرسول قد كهنا مانجا الله والرسول معاً من لسان الورى فكيف انا جہاں تک متنازعہ شخصیت کا تعلق ہے تو یہ سراسر ایک اضافی بات ہے۔ تاریخ کے تمام بڑے رہنما اپنے زمانہ میں متنازعہ شخصیت تھے اور بعد کے زمانہ میں مسلمہ شخصیت۔ ابو حنیفہ، فخر الدین الرازی، ابن تیمیہ اپنے معاصرین کی نظر میں متنازعہ شخصیت تھے۔ مگر بعد والوں کی نظر میں وہ امام بن گئے۔ ہندوستان میں شاہ ولی اللہ، سرسید، سید حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد اپنے زمانہ میں متنازعہ شخصیت بن گئے تھے۔ معاصرین کی نظر میں متنازعہ شخصیت بننا اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ مستقبل میں اس کو یقینی طور پر غیر متنازعہ شخصیت کا مقام ملنے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page