Al-Risala · February 1999 · page 47

تصویر کا فتنه

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۷

خبرنامہ اسلامی مرکز - ۱۳۸

۱- نومبر ۱۹۹۸ کے پہلے اور دوسرے ہفتہ میں دہلی میں کتابوں کی ایک بڑی نمائش ہوئی۔ اس میں اسلامی مرکز کا بک اسٹال لگایا گیا۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں کتابیں حاصل کیں اور کہا کہ ایسا مقامی انتظام کیجئے کہ دہلی میں یہ کتابیں برابر ملنے لگیں۔ ۲- نئی دہلی کے آئی میگزین (spicmacay sciety) کے نمائندہ مسٹر سنگھتا سنگھ نے یکم نومبر ۱۹۹۸ کو اپنے میگزین کے لئے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اسلام سے تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ اسلام میں کٹر پن کیوں ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ اسلام میں کٹر پن نہیں ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ اسلام نرمی اور اعتدال کا دین ہے۔ اور یہ کہ اہل اسلام کو دوسروں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ کوئی شخص اگر اسلام کے نام پر کٹر پن دکھائے تو اس کی ذمہ داری اسلام پر نہیں ہے۔

۳- سری دھنوم جے داس چیرٹیبل ٹرسٹ (چترنجن پارک نئی دہلی) کے تحت ۴ نومبر ۱۹۹۸ کو ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع اخلاقیات تھا۔ ہر مذہب کے لوگوں نے اپنے مذہب کی روشنی میں اخلاق کی اہمیت بتائی۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور اسلام اور اخلاقیات کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ انھوں نے بتایا کہ اسلام میں اخلاقیات اتنی زیادہ ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ سب سے اچھا انسان وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔ اسی طرح اس موضوع سے متعلق پیغمبر اسلام کی اور بہت سی حدیثیں بیان کیں ۔

۴- ۷ نومبر ۱۹۹۸ کو اپسر آرٹ سنٹر (نئی دہلی) میں ایک اجتماع تھا۔ اس کا موضوع اسلام میں جہاد کا تصور تھا۔ اس میں دہلی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوؤں نے شرکت کی۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور موضوع پر اظہار خیال کیا۔ ایک سوال کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page