Al-Risala · January 2000 · page 20

غلط سوچ کا مسئلہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۲۰

جیسا کہ عرض کیا گیا، اس دنیا کا نظام فطرت کے اٹل قانون کے تحت چل رہا ہے نہ کہ کسی گروہ کی سازش کے تحت۔ فطرت کے اس قانون کا ایک حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ وہ اکثر حالات میں کمزور فریق کا ساتھ دیتا ہے۔ وہ نام نہاد بڑے گروہ کے مقابلہ میں چھوٹے گروہ کی حمایت کرتا ہے۔ یہ قانون قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آتی ہیں۔ (البقرہ ۲۴۹)

ایک کمزور گروہ اپنے مقابلہ میں طاقتور گروہ سے کیوں کر بڑھ جاتا ہے اور فطرت کا قانون کس طرح اس کا مددگار بنتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خالق فطرت نے پیدائشی طور پر ہر انسان کے اندر اتھاہ امکانات رکھ دئے ہیں۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ مگر ابتدائی طور پر یہ صلاحیت سوئی ہوئی حالت میں ہوتی ہے۔ یہ تمام اعلیٰ امکانات اس کے اندر بالقوۃ طور پر موجود ہوتے ہیں۔ یہ انسان کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اس بالقوۃ (potential) کو بالفعل (actual) میں تبدیل کرے۔

یہاں دوبارہ فطرت کا قانون یہ ہے کہ یہ تبدیلی دباؤ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ یعنی کسی فرد یا گروہ کے اوپر حالات کا جتنا زیادہ دباؤ پڑتا ہے، اتنا ہی زیادہ اس کی چھپی ہوئی صلاحیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ یہ عین وہی فطری معاملہ ہے جو، مثال کے طور پر، گنے کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر گنارس سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ مگر معمول کے حالات میں یہ رس گنے سے باہر نہیں آتا۔ گنے کا رس صرف اس وقت اندر سے نکل کر باہر آتا ہے جب کہ اس پر غیر معمولی دباؤ پڑے۔ گنے کو اگر آپ نرم روئی میں رکھ دیں تو اس کا رس کبھی باہر نہیں آئے گا۔ لیکن جب آپ گنے کو کریشر (crusher) میں ڈالتے ہیں تو اس کے اندر بھرا ہوا میٹھا رس نکل کر باہر آ جاتا ہے۔

یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان بھی ہمیشہ دباؤ کے حالات میں ترقی کرتا ہے۔ یہی اصول فرد کے لئے بھی ہے اور یہی اصول جماعت کے لئے بھی۔ اس معاملہ کو مشہور برطانوی مورخ آرنلڈ جے ٹوائن بی نے اپنی کتاب مطالعہ تاریخ (A Study of History) میں کامیابی کے ساتھ واضح کیا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page