Al-Risala · January 2000 · page 19

غلط سوچ کا مسئلہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۱۹

غلط سوچ کا مسئلہ

ماہنامہ الرسالہ کے ایک قاری لکھتے ہیں: آپ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ آدمی کے لئے جب کامیابی کا ایک موقع ختم ہو جائے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ کیوں کہ اس کے بعد دوسرا موقع وہیں اس کے لئے موجود رہتا ہے جس سے وہ اپنی ترقی کا سفر دوبارہ شروع کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ آدمی کس طرح جانے کہ یہاں اس کے لئے دوسرا موقع موجود ہے۔ (سہیل احمد، نئی دہلی)

نئے موقع کو پہچاننے کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ آدمی بند ذہن کے تحت نہ سوچے بلکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کے لئے تیار ہو۔ وہ دوسروں کو قصور وار ٹھہرانے کے مزاج سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا لے۔ اس کی ایک مثال ہندوستان کے مسلمان ہیں۔ ۔ ۱۹۴۷سے پہلے ہمارے لیڈر اور ہمارے اخبارات مسلمانوں کو یہ بتاتے تھے کہ ہندوستان میں ان کا مقابلہ ہندو اکثریت سے ہے۔ یہاں وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتے ۔ ۱۹۴۷میں تقسیم کے بعد بھی یہی ذہن باقی رہا۔ تمام بولنے والے اور لکھنے والے لوگ مسلمانوں کو یہی منفی سبق دیتے رہے۔ کچھ لوگ اس حد تک گئے کہ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ یہاں کا اکثریتی فرقہ ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں اس ملک کو دوسرا اسپین بنانا چاہتا ہے۔ اس غوغا آرائی نے مسلمانوں کے ذہن کو اتنا زیادہ بگاڑا کہ وہ سمجھنے لگے کہ ہندوستان میں ان کے لئے کامیابی اور ترقی کے مواقع سرے سے موجود ہی نہیں۔ میں ۱۹۴۷سے اس کے خلاف لکھتا اور بولتا رہا ہوں۔ آخر کار آزادی کے تقریباً ۴۰ سال بعد مسلمانوں کا ذہن بدلنا شروع ہوا۔ اب ان کی سمجھ میں آیا کہ ہندوستان میں ان کے لئے ہر قسم کے مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اب یہاں کے مسلمان ہر میدان میں مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔

اصل یہ ہے کہ اس دنیا کا نظام فطرت کے قوانین کے تحت چلتا ہے نہ کہ کسی متعصب فرقہ کے منصوبوں یا سازشوں کے تحت۔ کوئی فرقہ یا گروہ بالفرض چاہے بھی تو فطرت اس کے راستہ میں رکاوٹ بن جائے گی اور وہ تاریخ کے پہیہ کو الٹی طرف گھمانے میں کامیاب نہ ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page